میر رضا کیس میں مقتول کی لاش کو تیزاب سے جلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کیس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ فارنزک لیب بھیجی گئی شرٹ کے معائنے میں معلوم ہوا کہ میر رضا کے ہاتھ اور چہرے پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ تیزاب پھینکنے کا مقصد مقتول کی شناخت مٹانا تھا تاکہ اسے پہچانا نہ جا سکے۔
گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بلوچستان میں ہزاروں ایکڑ زمین قابلِ کاشت
میر رضا کے اہلخانہ نے عدالتی کمیشن پر رضامندی ظاہر نہیں کی، وکیل جبران ناصر۔
دوسری جانب میر رضا کیس کی نئی تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج ہوگا، جس میں قتل سمیت تمام زاویوں سے میر رضا کی موت کی تحقیقات کی جائیں گی۔ 5 رکنی کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی جبکہ ایس ایس پی علی رضا سیکریٹری ہوں گے۔
ہفتے کو میر رضا کی قبرکشائی کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی اور جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق دائیں ران اور جبڑے پر فریکچر کے شواہد بھی ملے، جبکہ جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر خون کے دھبے بھی موجود تھے۔