پیرس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور ہم افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کی امیر قطر سے ملاقات ہوئی، جہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ قطر نے جس طرح معاملات کو سنبھالا، میں اس سے خوش ہوں۔ میرے خیال میں ایران سے منصفانہ ڈیل ہوئی ہے، تاہم ہم وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے نہیں جا رہے۔
گلگت بلتستان انتخابات میں کامیاب 4 آزاد امیدوار استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوگئے
امریکی صدر نے کہا کہ ایران معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ہم ایران کا افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ میرے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ ایران کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہ ہوں اور معاہدے کے تحت ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو ایران کو تباہ کر دیں گے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ لبنان کی جنگ کو نسبتاً معمولی تنازع سمجھتا ہوں۔ اسرائیل کو تجویز دی ہے کہ حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کو سونپی جائے۔ اسرائیل کو بتایا تھا کہ مجھے بیروت پر اسرائیلی حملہ پسند نہیں آیا۔ اگر اسرائیل یہ کام دوسرے لوگوں کو مارے بغیر نہیں کر سکتا تو پھر شام کو یہ کام کرنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس کو بھی یوکرین سے معاہدہ کرنا چاہیے۔ آج یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملاقات ہوئی۔