ذرائع کے مطابق سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے جبکہ سٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی آئندہ بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔ اسی طرح یکم جولائی 2026 سے سٹاک مارکیٹ پر نافذ ٹیکسوں میں بھی کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کشمیر متنازع خطہ، بھارت غیرذمہ دارانہ بیانات سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے: دفتر خارجہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافہ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والے افراد پر عائد اضافی سرچارج یا جرمانہ ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس کے ساتھ برآمدی شعبے کے لیے ریلیف پیکیج کے تحت ایک فیصد ایکسپورٹ ٹیکس ختم کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ٹیکس حکام کے مطابق حکومت بجٹ تقریر کے دوران برآمدی شعبے کے لیے خصوصی اقدامات کا اعلان کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم میں شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی جگہ برآمدی آمدن پر کم از کم دو فیصد ٹیکس عائد کیا گیا، جس میں ایک فیصد کم از کم ٹیکس اور ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے۔
صنعتی اور برآمدی حلقوں کی جانب سے حکومت کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے ساتھ اختیاری بنیادوں پر بحال کیا جائے، سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے اور خسارے کا شکار برآمد کنندگان کو اضافی ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ نارمل ٹیکس رجیم میں شامل کاروباروں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی غیر ضروری کارروائیوں سے تحفظ دینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے۔