کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے وفاقی بجٹ کی منظوری کے لیے سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی بحالی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نے وفاقی بجٹ میں حکومت کا ساتھ دینے کے لیے کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ بحالی کا بھرپور مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس مطالبے کو جماعت کی بنیادی شرط قرار دینے پر زور دیا گیا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت ملتوی
ایم کیو ایم کے ایک مرکزی رہنما نے بتایا کہ پوری جماعت کامران ٹیسوری کے ساتھ ہے کیونکہ ان کے دورِ گورنری میں شہر کے مسائل اجاگر کرنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے فعال کردار سامنے آیا۔ ان کے مطابق ان کی برطرفی سے جماعت کو نقصان پہنچا، اسی لیے بجٹ کے موقع پر اس معاملے کو کھل کر اٹھایا جائے گا۔
فاروق ستار نے کہا کہ پارٹی کی رائے ہے کہ کامران ٹیسوری کی بحالی کو بجٹ کی منظوری کے لیے بنیادی شرط بنایا جائے۔ ان کے مطابق ارکان اسمبلی کے اجلاس میں اس مؤقف پر اتفاق رائے پایا گیا ہے اور اگر آئندہ آئینی ترامیم نہ بھی ہو سکیں تو کم از کم بجٹ کے معاملے میں اس مطالبے کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کامران ٹیسوری نے اپنے دور میں مختلف فلاحی اقدامات کیے جن میں آئی ٹی تعلیم، راشن کی تقسیم اور دیگر سہولیات شامل ہیں، اس لیے ان کی بحالی ضروری ہے۔
ایم کیو ایم کے ایک اور رہنما نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے، اور اگر وزیراعظم دوبارہ نامزدگی کریں اور صدر منظوری دیں تو جماعت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
فاروق ستار نے واضح کیا کہ اگر مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو بجٹ منظوری کے معاملے کو اس شرط سے جوڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے بھی اپیل کی کہ وہ سیاسی وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کریں تاکہ تمام فریقین کے درمیان اعتماد بحال ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم قومی اسمبلی میں اہم نشستیں رکھتی ہے، اور اس کے مؤقف سے بجٹ منظوری کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ حکومتی اتحاد اور اتحادی جماعتوں کے باہمی مذاکرات سے مشروط ہوگا۔