ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران صوبے کی مجموعی ٹیکس وصولیوں کا ہدف تقریباً 712 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ ان محصولات میں سب سے بڑا حصہ سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس سے متوقع ہے، جس سے تقریباً 320 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت ملتوی
بجٹ دستاویزات کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی سے 128 ارب روپے، اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس سے 90 ارب روپے جبکہ سیلز ٹیکس سے 82 ارب روپے آمدن کی توقع ہے۔ اسی طرح موٹر وہیکل ٹیکس سے 47 ارب روپے، بجلی سے متعلق ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے 35.2 ارب روپے جبکہ لینڈ ریونیو کی مد میں 1.7 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں کسانوں، طلبہ اور مزدوروں کے لیے مختلف سبسڈی اور فلاحی پروگرام جاری رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ کسانوں کو ٹریکٹرز، سولر ٹیوب ویلز، سستے بیج، کھاد اور زرعی قرضوں پر سبسڈی فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
تعلیمی شعبے میں طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم، ہونہار اسکالرشپ پروگرام اور الیکٹرک بائیک اسکیم کو بھی برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ نوجوانوں کو تعلیم اور سفری سہولتوں میں مزید مدد فراہم کی جا سکے۔
علاوہ ازیں جنوبی علاقے کی ترقی کے لیے خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت ترقیاتی فنڈز کا کم از کم 35 فیصد حصہ جنوبی علاقے کے منصوبوں کے لیے مختص رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔