اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس میں ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔
ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے ثناء یوسف قتل کیس کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے مجرم عمر حیات کو ڈکیتی کی دفعات اور گھر میں گھسنے کی دفعات سمیت تین دفعات کے تحت مجموعی طور پر 20 سال قید اور 24 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔
آذربائیجان اور پنجاب کے درمیان مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق
دورانِ سماعت عدالت میں ملزم عمر حیات کی کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس پیش کیے گئے۔
ثناء یوسف قتل کیس، ملزم عمر حیات کا صحتِ جرم سے انکار
سماعت کے دوران ہی مدعی کے وکیل نے ملزم کو دو بار سزائے موت دینے کی استدعا کی۔
ملزم کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم عمر حیات نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، دو درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التواء ہیں، پہلے سے سوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینا ہے، زیادتی ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ثناء یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا تھا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ثناء یوسف قتل کیس کی سماعت کے دوران ملزم عمر حیات نے کہا تھا کہ اس نے ثناء کو قتل کرنے کا کوئی اعتراف یا کوئی انکشاف نہیں کیا، میرا ثناء یوسف سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔
اس پر جج نے استفسار کیا کہ دورانِ تفتیش ثناء یوسف کے فون سے کاکا کے نام سے ایک نمبر سامنے آیا تھا، موبائل فارنزک کے بعد وہ نمبر آپ کا نکلا، اس پر کیا کہیں گے؟
اس پر ملزم عمر حیات نے کہا کہ وہ اپنے وکیل کے بغیر کوئی جواب نہیں دے سکتے۔
کیس کا پس منظر
ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد میں ان کے گھر میں قتل کیا گیا تھا، کیس کے ملزم عمر حیات کو 3 جون 2025 کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
13 جون کو ملزم عمر حیات کی شناخت پریڈ ہوئی تھی، جڑانوالہ سے ملزم عمر حیات کا دوسرا موبائل فون برآمد ہوا تھا جبکہ 20 ستمبر کو ملزم عمر حیات پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
25 ستمبر کو پہلی گواہی ریکارڈ کی گئی تھی اور کیس میں مجموعی طور پر 31 گواہان شامل تھے جن میں سے 27 کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔