اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کی زیر صدارت اجلاس میں شہریوں کی سہولت کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ نارمل پاسپورٹ کی مدتِ اجرا 21 دن سے کم کر کے 14 دن کر دی گئی ہے۔ محسن نقوی کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کو تیز تر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
علی ظفر اور میشا شفیع ایک بار پھر آمنے سامنے، عدالت میں اپیل دائر
فیصلوں کے مطابق پاسپورٹ دفاتر میں مکمل کیش لیس سسٹم رائج کیا جائے گا، جبکہ وزیر داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ اس نظام کو 15 روز کے اندر مکمل طور پر نافذ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیش ادائیگی کے خاتمے سے ایجنٹ مافیا کا خاتمہ ہوگا اور شہریوں کو بہتر سہولت میسر آئے گی۔
اجلاس میں بزنس پاسپورٹ کے اجراء کے نظام کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاسپورٹ کی گھروں کی دہلیز تک ڈلیوری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاسپورٹ نظام کو بہتر بنانے اور عوامی سہولت کے لیے پاسپورٹ اتھارٹی کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پہلے نارمل پاسپورٹ 21 دن میں ڈلیور کیا جاتا تھا، جسے اب کم کر کے 14 دن کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔