Gas Leakage Web ad 1

پاکستان نے ایران کے ساتھ نئے فریم ورک کے تحت ٹرانزٹ روٹس کھول دیے

0

پاکستان نے ایک نیا ٹرانزٹ ٹریڈ فریم ورک نافذ کر دیا ہے جس کے تحت تیسرے ممالک سے آنے والا سامان پاکستان کے علاقے سے گزرتے ہوئے ایران تک منتقل کیا جا سکے گا۔ حکومت کے مطابق یہ نظام اتوار کے روز فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
وزارتِ تجارت نے اس حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے “ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر 2026” متعارف کرایا ہے۔ وزارت کے مطابق اس حکم نامے کے ذریعے تیسرے ممالک سے آنے والے سامان کو پاکستان کے راستے ایران تک لے جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
وزارتِ تجارت کے مطابق اس مقصد کے لیے مختلف اہم ٹرانزٹ راستے اور کوریڈورز مقرر کیے گئے ہیں جن میں گوادر، کراچی اور تفتان کے راستے شامل ہیں۔ گوادر–گبد روٹ کو تیسرے ممالک سے ایران جانے والے سامان کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ کراچی اور پورٹ قاسم سے تفتان تک کارگو کوریڈور کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

پنجاب حکومت کا راشن کارڈ میں مزید 50 ہزار افراد کو شامل کرنے کا فیصلہ

نوٹیفکیشن کے مطابق جن راستوں کو ٹرانزٹ سامان کی ترسیل کے لیے نامزد کیا گیا ہے ان میں کراچی اور پورٹ قاسم سے لیاری، اورماڑہ، پسنی اور گبد تک کا راستہ شامل ہے۔ اسی طرح کراچی اور پورٹ قاسم سے خضدار، دالبندین اور تفتان تک کا کوریڈور بھی شامل کیا گیا ہے۔ مزید برآں گوادر سے تربت، ہوشاب، پنجگور، ننگ، بیسما، خضدار، کوئٹہ یا لاک پاس، دالبندین، نوکنڈی اور تفتان تک کا راستہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح گوادر سے لیاری، خضدار، کوئٹہ یا لاک پاس، دالبندین، نوکنڈی اور تفتان کا روٹ بھی شامل ہے۔ کراچی اور پورٹ قاسم سے گوادر اور پھر گبد تک کا راستہ بھی منظور کیا گیا ہے جبکہ گوادر سے براہِ راست گبد تک کا روٹ بھی اس نظام کا حصہ ہے۔
حکم نامے میں یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ ٹرانزٹ کارگو کے لیے مالی ضمانت دینا لازمی ہوگا تاکہ تمام قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
تمام کسٹمز کارروائیاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مقرر کردہ قواعد کے مطابق انجام دی جائیں گی جبکہ مخصوص کوریڈورز کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ ترسیل کا عمل محفوظ اور منظم رہے۔
وزارتِ تجارت کے مطابق اس نوٹیفکیشن کے تحت سامان کی ترسیل پاکستان کسٹمز ایکٹ 1969 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق ہوگی، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مقرر کردہ کارروائی بھی اس میں شامل ہوگی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون اس سامان کی نقل و حرکت پر لاگو ہوگا جو تیسرے ملک سے ٹرانزٹ کے طور پر پاکستان کے راستے ایران منتقل کیا جائے گا، جہاں پاکستان کا علاقہ صرف راستے کے ایک حصے کے طور پر استعمال ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق “ٹرانزٹ” سے مراد وہ عمل ہے جس میں سامان ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوتا ہے جبکہ پاکستان کا علاقہ صرف اس مکمل سفر کا ایک حصہ ہوتا ہے، جس کا آغاز اور اختتام پاکستان کی سرحدوں سے باہر ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ “ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ کوریڈور” سے مراد وہ مخصوص راستہ ہے جو ٹرانزٹ سامان کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ نوٹیفکیشن 25 اپریل سے نافذ العمل ہے اور اسے بین الاقوامی ٹرانسپورٹ سے متعلق پاکستان اور ایران کے 2008 کے معاہدے اور درآمد و برآمد کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت جاری کیا گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.