وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کی کارکردگی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے اس ادارے کو نجکاری ڈویژن کے تحت کام کرنے کے لیے منتقل کیا جائے گا۔
سیزفائر میں توسیع نہیں ہوگی، ٹرمپ کی ایران سے معاہدہ نہ ہونے پر بمباری کی دھمکی
وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے، اور ترقیاتی منصوبوں کو ان وزارتوں اور اداروں کی کارکردگی جانچنے کے پیمانوں (KPIs) کا حصہ بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی تھری اے کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ اجلاس میں خطے اور دنیا کے دیگر ممالک میں رائج اس طرز کے ماڈلز کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔
اجلاس کو مجوزہ نئے نظام کے خدوخال پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ نئے نظام کے تحت پی تھری اے کی نگرانی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور نجکاری ڈویژن کریں گے۔
مزید برآں وزیرِ اعظم نے اس نئے نظام پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔