کراچی:
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کفایت شعاری کا درس دینے والے جب تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے تو ان کے پروٹوکول میں 36 گاڑیاں موجود تھیں۔ صدر زرداری 27 گاڑیوں کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے گئے۔ وزیر اعظم نے پیٹرول کی قیمت سے متعلق سمری مسترد کی، جیسے وہ سمری جاپان سے آئی ہو۔ اپنی ہی بنائی سمری مسترد کر کے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی گئی۔
سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو پاکستان کا دورہ کریں گے، وزارت خارجہ
انہوں نے کہا کہ 1300 سی سی سے زیادہ سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے، حکومت اپنی عیاشیاں ختم کرے اور تعلیمی اداروں کو فوراً کھولنے کا اعلان کرے۔ ایران سے تجارت کو فوری بحال کیا جائے اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام شروع ہونا چاہئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ خطے کی جنگ کی وجہ سے پوری دنیا حالت جنگ میں ہے، اسرائیل اور امریکہ چاہتے ہیں کہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیل دیں، اور ان کے پیچھے ایسے عناصر ہیں جو اسلحہ بیچتے ہیں اور شیطان کو پوجتے ہیں۔
انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پورے صوبے کا بیڑا غرق کر دیا ہے، ریڈ لائن منصوبے کو کرپشن کا دھندا بنایا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو کو بتانا چاہیے کہ ریڈ لائن اربوں روپے تک پہنچ گیا، یہ منصوبہ کراچی کے لوگوں کے لیے ضروری نہیں تھا، بسیں چلانا کافی تھا۔ سندھ سولڈ ویسٹ کے ذریعے اربوں روپے غبن کیے جا رہے ہیں اور اس کے جوابدہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے پیپلز پارٹی کو اپنے مفاد میں مسلط کیا۔ کراچی میں میگا سٹی گورنمنٹ ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کریم آباد کے انڈر پاس پر چار ارب روپے خرچ کیے گئے، تینتالیس سو کروڑ روپے سالانہ کا دھندا پیپلز پارٹی کر رہی ہے، سولڈ ویسٹ کا دھندا چل رہا ہے اور پورا کراچی کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ پورے ملک کو چلانے والے شہر کو کوئی سنوارنے کو تیار نہیں، 40 سال میں کراچی کو تباہ کیا گیا، یہ بین الاقوامی ایجنڈا تھا۔