اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کا دھرنا پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حکومت نے کوئی مطالبہ پورا نہیں کیا۔
تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ایران سے مذاکرات میں بالواسطہ شامل رہوں گا: ڈونلڈ ٹرمپ
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے مطالبات میں میڈیکل رپورٹ شامل نہیں تھی، بلکہ مطالبہ یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ذاتی ڈاکٹر اور فیملی سے ملنے دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ وہ ذاتی ڈاکٹر سے علاج کروائیں، اور سوال اٹھایا کہ حکومت ذاتی معالج کی اجازت نہ دے کر کیا چھپا رہی ہے۔
انہوں نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مختلف مقامات پر عوام نے خود سے دھرنے دے رکھے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی یا اپوزیشن اتحاد نے پارلیمنٹ اور کے پی ہاؤس کے علاوہ کہیں دھرنے کی کال نہیں دی۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ پی ٹی آئی میں فیصلوں کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے اور انہی کی کال پر وہ احتجاج میں شریک ہیں۔
علیمہ خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ علیمہ خان بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں اور ان کا پی ٹی آئی یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے انہیں سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔