اسلام آباد: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ممکنہ مارچ کو روکنے کے لیے وفاقی دارالحکومت کو آج کسی بھی وقت سیل کیے جانے کا امکان ہے۔
مارچ کے اعلان کے بعد اسلام آباد کے داخلی راستوں پر کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ شہر بھر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق شام کے بعد اسلام آباد کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔ ریڈ زون مکمل سیل کردیا جائے گا اور صرف مارگلہ روڈ کے راستے سے مجاز افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں ٹی ایل پی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ موبائل فون سگنلز کی ممکنہ بندش پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ نے مری روڈ فیض آباد کے ہوٹلز خالی کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے کہا کہ کسی سڑک کو بلاک کرنے یا ٹریفک میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران کسی بھی پرتشدد سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان نے 10 اکتوبر بروز جمعہ اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے باعث انتظامیہ نے فیض آباد سمیت مختلف مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی ہے۔