سکھر بورڈ کے زیر انتظام میٹرک امتحانات،ٹیموں کے مختلف امتحانی مراکز کے دورے
سکھر(نمائندہ خصوصی)سکھر بورڈ کے زیر انتظام نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات،بورڈ کی جانب سے بنائی گئی ٹیموں کے مختلف امتحانی مراکز کے دورے، متعدد امتحانی مراکز میں سہولیات کا فقدان، کئی مراکز میں بجلی و روشنی کا نامناسب انتظام طلباء کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا
تفصیلات کے مطابق سکھر کے ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے زیر انتظام نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات شروع ہوگئے ہیں جو دس مئی تک جاری رہیں گے سکھر بورڈ کی جانب سے سکھر، خیرپور اور گھوٹکی اضلاع میں دو سو سے زائد امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں پر نویں اور دسویں جماعت کے ایک لاکھ پانچ ہزار تہتر طلباء امتحان دے رہے ہیںامتحانات کے پہلے روز نویں جماعت کا انگلش اور دسویں جماعت کااردو سلیس اور سندھی کے پرچے لیے گئے جس کے دوران چئیرمین بورڈ سکھر رفیق احمد پلھ کی سربراہی میں مختلف ٹیموں نے اچانک امتحانی مراکز کے دورے کیے اور امتحانات کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ بھی لیا۔
تاہم امتحانی مراکز کے دورے پر متعدد امتحانی مراکز میں پانی و بجلی کی سہولیات کا فقدان نظر آیا سکھر کے ایم کے اسکول میں قائم مرکز کے متعدد بلاکس میں بجلی و روشنی کا کوئی مناسب انتظامات نہیں تھے چیئرمین بورڈ رفیق احمدپلھ نے دورے کے دوران میڈیاسے گفتگوکرتےہوئےکہا کہ امتحانات میں نقل کو روکنےکے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں نقل کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کررہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کی جانب سے نقل کو روکنے کے لیے بورڈ کی تیس سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں سہولیات کی کمی کے حوالے سے سوال پر چیئرمین بورڈ رفیق پلھ کا کہنا تھا کہ بورڈ اس طرف توجہ دے رہا ہے ایم کے اسکول کے بلاکس میں لگے بلب بجلی کے جھٹکوں کی وجہ سے جل گئے ہیں انہوں نے کہاکہ سکھر بورڈ کی جانب اس بار کوئی امتحانی مرکز تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔