راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) — راولپنڈی میں ایک ٹریفک وارڈن کی جانب سے مبینہ طور پر ایک شہری کے ساتھ بدتمیزی، تشدد اور ہراسانی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وارڈن شہری کو نہ صرف زدوکوب کر رہا ہے بلکہ ویڈیو بنانے والے شخص کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے اور گالم گلوچ کرتا نظر آ رہا ہے۔
واقعہ راولپنڈی کے کسی مصروف علاقے میں پیش آیا، جہاں وارڈن نے مبینہ طور پر ایک موٹرسائیکل سوار کو معمولی خلاف ورزی پر روکا، تاہم بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ ویڈیو میں شہری کو دبوچ کر مارا جا رہا ہے جب کہ ساتھ کھڑا ایک اور شخص جو ویڈیو بنا رہا تھا، اسے روکنے کی بھی کوشش کی گئی اور اسے نازیبا الفاظ کہے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ شخص ایک غریب محنت کش تھا جو روزانہ مزدوری کے لیے موٹرسائیکل پر نکلتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں خاص طور پر غریب موٹرسائیکل سواروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) راولپنڈی، بینش فاطمہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر کے ہیڈکوارٹرز رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ سی ٹی او نے سینئر ٹریفک آفیسر کو واقعے کی مکمل انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ:
"کسی بھی شہری کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں متعلقہ اہلکار کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔”
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف معطلی کافی نہیں، بلکہ ذمہ دار اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
یہ واقعہ ٹریفک وارڈنز کے رویے پر ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گیا ہے اور راولپنڈی کی عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان تصادم کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔