غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکی حکام نے عمان میں حوثیوں سے خفیہ ملاقات کی۔
خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق معاملے سے باخبر 3 ذرائع نے بتایا کہ یہ غیر اعلانیہ ملاقات مسقط میں امریکی سفارت خانے میں ہوئی، جبکہ 2 ذرائع کے مطابق عمان کی حکومت نے اس ملاقات کے انعقاد میں مدد کی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ 2025 میں حوثیوں کو ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا تھا، جس کے بعد اس گروپ کی حمایت کو جرم قرار دے دیا گیا تھا۔
وزیرآباد میں حملے کیلئے بھیجے گئے کرائے کے قاتل کو میری سکیورٹی ٹیم نے پکڑا: سہیل آفریدی کا دعویٰ
بعد ازاں امریکا نے حوثیوں کے ساتھ مذاکرات بھی کیے اور دو ماہ تک اس گروپ پر بمباری کرنے کے بعد بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حملے روکنے کے لیے گزشتہ سال مئی میں ان کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ حوثیوں نے ان کی انتظامیہ کو فون کرکے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کی جنگ سے دور رہے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کے روز تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ امریکا اس گروپ کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق 2 ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں حوثیوں نے امریکی حکام کو بتایا کہ ان کا امریکی جہازوں پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ امریکا کے ساتھ 2025 کی جنگ بندی کے پابند ہیں۔
یمن سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا کہ ملیشیا گروپ نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب کی ملکیت والے جہازوں کے علاوہ اسرائیلی جہازوں یا کسی بھی دیگر تجارتی بحری جہاز پر حملہ نہیں کریں گے۔
2 ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں امریکا کی نمائندگی سفارت خانے کے عملے نے کی۔ حوثیوں کے وفد میں مسقط میں مقیم ایک سینیئر اہلکار محمد عبدالسلام بھی شامل تھے، جن پر امریکی پابندیاں عائد ہیں۔
ایک اور ذریعے نے محمد عبدالسلام کے ساتھ ایک اور سینیئر حوثی اہلکار عبدالمالک العجری کی موجودگی کی بھی تصدیق کی۔