وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی سہولت کاری میں ایک اہم ادارے کا سرکاری افسر ملوث ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ضیا نامی شخص دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا، جسے بدقسمتی سے سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ ایک اہم ادارے کا سرکاری ملازم اکبر بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہے اور وہ افغانستان سے اسلحہ کشمیر تک لاتا ہے۔
بانی کی ہدایات ہیں سٹریٹ موومنٹ کا چلانا سہیل آفریدی کی ذمہ داری ہے: چیئرمین پی ٹی آئی
طلال چوہدری کے مطابق ضیا کے شرپسند امان اللہ کے کارندے ماجد سے رابطے تھے، جبکہ افغانستان سے اسلحہ بھیجنے والے شخص زرشاد سے بھی اس کا رابطہ تھا۔ 26 اگست کو ماجد نے اسلحے کی فراہمی کے لیے سردار امان کا پیغام ضیا تک پہنچایا۔ آزاد کشمیر کے شہری ضیا کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے، جبکہ ٹیرر کرائم نیٹ ورک دہشت گردی کے لیے سہولت کاری فراہم کررہا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور پاکستان میں روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیرر کرائم نیٹ ورک منشیات، اسلحے، پیٹرول اور گاڑیوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔ نیٹ ورک کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے منظم سازش کی جارہی ہے۔ دہشت گردی اور سہولت کاری کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔