امریکا میں پہلی بار ’ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ‘ کا استعمال، مبینہ دہشگردی کی حامی افغان خاتون ملک بدر
نورالامین
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں امریکا نے پہلی بار ایک ایسی خصوصی عدالت کے ذریعے مبینہ دہشت گردی میں ملوث غیر ملکی کو ملک بدر کردیا ہے، جسے تقریباً 30 سال قبل کانگریس نے قائم کیا تھا لیکن اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق افغان خاتون نذیرہ حاجی زادہ کو مبینہ طور پر اپنے بیٹے اور داماد کی مدد کرنے کے الزام میں ملک بدر کیا گیا۔ دونوں پر 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران داعش سے متاثرہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔
نئے جاری کیے گئے عدالتی ریکارڈ کے مطابق نذیرہ حاجی زادہ نے خود کو امریکی امیگریشن قانون کے تحت ’’ایلین ٹیررسٹ‘‘ قرار دیے جانے پر اعتراض نہیں کیا اور اپنی ملک بدری کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی چھوڑ دیا، جس کے بعد انہیں افغانستان واپس بھیج دیا گیا۔
حاجی زادہ کے وکلا نے اس سے قبل اس خصوصی عدالت کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔ وکلا کا مؤقف تھا کہ عدالت کے خفیہ طریقہ کار سے ملزم کے بنیادی قانونی اور آئینی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ کا مقصد ایسے غیر ملکیوں کی تیز رفتار ملک بدری ہے جن کے خلاف دہشت گردی یا قومی سلامتی سے متعلق حساس الزامات ہوں اور عام امیگریشن کارروائی میں خفیہ معلومات ظاہر ہونے کا خدشہ ہو۔
اس عدالت کی کارروائی میں امریکی حکومت بعض خفیہ معلومات کو عوام اور حتیٰ کہ متعلقہ غیر ملکی سے بھی پوشیدہ رکھ سکتی ہے۔ تاہم مقدمات کی سماعت وفاقی آرٹیکل تھری ججز کرتے ہیں، جو معمول کی امیگریشن عدالتوں کے ججز کے مقابلے میں انتظامیہ سے زیادہ آزاد سمجھے جاتے ہیں۔
امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے حاجی زادہ کی ملک بدری کو قومی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو امریکا میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بھی اسے امریکی سرزمین کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کی کوششوں میں ’’تاریخی اور انتہائی اہم قدم‘‘ قرار دیا۔
حاجی زادہ کے بیٹے کو دہشت گرد تنظیم کی مدد کے لیے اسلحہ حاصل کرنے کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، جبکہ ان کے داماد کو داعش سے منسلک مبینہ دہشت گرد منصوبے کا مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے۔
تاہم حاجی زادہ کے حکومت سے معاہدے کے بعد عدالت کی آئینی حیثیت اور اس کے خفیہ طریقہ کار سے متعلق اہم قانونی سوالات پر حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آسکا۔