عالمی منڈی میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد برینٹ خام تیل تقریباً 4 فیصد اضافے کے ساتھ 87.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو کئی ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 82.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ دیگر اہم بینچ مارکس بھی تیزی کی لپیٹ میں رہے۔ مربان کروڈ کی قیمت 80.77 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی مڈلینڈ 81.81 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔
فیفا ورلڈکپ جیتنے پر اسپین میں جشن کا سماں، ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ہنگامے
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں نے خطے میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی خطرات کے پیش نظر توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات کے باعث خریداری میں تیزی دکھائی، جس سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو گئیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات صرف خام تیل تک محدود نہیں رہے بلکہ توانائی کی دیگر مصنوعات بھی مہنگی ہو گئیں۔ امریکی گیسولین فیوچرز، ڈچ ٹی ٹی ایف نیچرل گیس، امریکی نیچرل گیس اور جاپان-کوریا ایل این جی بینچ مارک کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوئی تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جہاں سے دنیا کی خام تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اور یہی خدشہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی اہم وجہ بن رہا ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کیا۔ امریکا میں وال اسٹریٹ کا آغاز منفی رجحان کے ساتھ ہوا، جہاں ایس اینڈ پی 500، ناسڈیک اور ڈاؤ جونز انڈیکس دباؤ کا شکار رہے، جبکہ یورپ میں جرمنی اور فرانس کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ برطانیہ کی مارکیٹ کو صرف بڑی تیل کمپنیوں کے حصص نے سہارا دیا۔
ایشیائی منڈیوں میں بھی منفی رجحان غالب رہا، جہاں جاپان، جنوبی کوریا اور چین کی اسٹاک مارکیٹوں میں دباؤ دیکھا گیا، جبکہ ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص فروخت کی زد میں رہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہیں تو پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو سنگین معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق درآمدی بل میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں وسعت، روپے پر مزید دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ خدشہ ہے کہ تیل کی مسلسل بلند قیمتیں ملکی معیشت، سرکاری مالیات اور روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہِ راست اثرات مرتب کریں گی۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں عالمی منڈیوں کی سمت کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی کی نوعیت پر ہوگا۔ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے یا آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں مہنگائی اور مالیاتی منڈیوں پر مرتب ہوں گے۔