(سپیشل کراسپنڈنٹ)
گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن 20 فیصد فیس کے عوض آبنائے ہرمز کا "نگہبان” بننے کے لیے بھی تیار ہے۔
اسلام آباد میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بحال کرنے کا اعلان کیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ناکہ بندی امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے نافذ ہونا تھی، اور اس کا اطلاق صرف ان بحری جہازوں پر ہوگا جو ایران جا رہے ہوں یا وہاں سے روانہ ہو رہے ہوں۔
امریکی سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی بحری ناکہ بندی کا باقاعدہ آغاز منگل سے کیا جائے گا، جو پاکستانی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک بجے شروع ہوگی۔ بیان کے مطابق ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا، تاہم احکامات کی پابندی کرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت جاری رہے گی۔
امریکی فوج کے مطابق اس سے قبل 13 اپریل سے 18 جون تک بھی ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ رہی، جس کے دوران 140 سے زائد بحری جہازوں کے راستے تبدیل کیے گئے، جبکہ احکامات کی خلاف ورزی پر 9 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا۔ اسی عرصے میں انسانی امداد لے جانے والے 50 سے زائد تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمۂ دفاع کے اندازے کے مطابق یکم مئی تک ایران کی تیل کی آمدنی میں مجموعی طور پر 4.8 ارب ڈالر کی کمی واقع ہو چکی تھی۔