وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے شہداء کی قربانیوں کی توہین قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینئر سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جان کا نذرانہ دینے کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض شناسی اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ ان کے بقول حالات، واقعات یا طریقۂ کار پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، تاہم اس جذبے، محبت اور قربانی کی توہین کسی صورت مناسب نہیں۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب بھی جاری ہے، جس میں پاک فوج سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان قربانیوں کو محض تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی کے مترادف ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے بیان سے نہ صرف ایک ادارہ بلکہ ہزاروں شہداء، غازیوں، بیواؤں اور یتیموں کے جذبات بھی مجروح ہوئے ہیں۔