Gas Leakage Web ad 1

سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملہ

0

یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے جنوبی شہر ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

Gas Leakage Web ad 2

الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والی کارروائی کے ردِعمل میں کیا گیا۔ ترجمان نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں اور ان کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لیں۔

دوسری جانب سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔ سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان کے مطابق حملہ ناکام بنا دیا گیا اور ملکی فضائی حدود محفوظ ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس سے قبل یمن کی سعودی حمایت یافتہ، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے صنعاء کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنایا تھا۔ یمنی وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکنا تھا، تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ متعلقہ طیارہ حوثیوں کے زیرِ انتظام حدیدہ ہوائی اڈے پر اتر گیا۔

صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد حوثیوں نے اس کارروائی کو "کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کئی برس سے جاری نسبتاً پرسکون صورتحال کا خاتمہ ہو گیا ہے اور سعودی عرب کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں ہونے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی ہے، تاہم حالیہ حملوں نے اس نازک امن کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور سعودی عرب کی تیل برآمدات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.