دنیا میں جب بھی چین کی ترقی کی بات ہوتی ہے تو اکثر لوگوں کے ذہن میں بڑے شہر، بلند و بالا عمارتیں اور جدید انفراسٹرکچر آتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ چین کی ترقی کی حکمت عملی صرف شہروں تک محدود نہیں رہی۔ حالیہ برسوں میں چین نے اپنے دیہی علاقوں کی ترقی کو بھی قومی ترجیح بنایا ہے تاکہ شہروں اور دیہات کے درمیان فرق کو کم کیا جا سکے اور معاشی ترقی کو زیادہ متوازن بنایا جا سکے۔ یہاں آئندہ پانچ سال کے لئے زراعت اور دیہات کی ترقی کا جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس کا مقصد صرف زرعی پیداوار بڑھانا نہیں بلکہ گاؤں کو ایسے جدید مراکز میں تبدیل کرنا ہے جہاں لوگ بہتر معیارِ زندگی حاصل کر سکیں اور مقامی معیشت مضبوط ہو سکے۔ اسی تناظر میں چین نے کئی اہم اقدامات شروع کیے ہیں۔
چین زراعت کو جدید بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہا ہے۔ جدید مشینری، سائنسی تحقیق اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے زرعی پیداوار کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کسانوں کی محنت بھی کم ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کے منصوبوں میں دیہی علاقوں کی ماحولیاتی بہتری بھی شامل ہے۔ گاؤں میں صاف پانی، بہتر رہائش، سڑکیں اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ لوگ بہتر ماحول میں زندگی گزار سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول کے تحفظ کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔یہاں دیہی ترقی کی کامیابی کا ایک اہم معیار کسانوں کی آمدنی میں اضافے کو تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کسان زیادہ کمائیں گے تو وہ بہتر زندگی گزار سکیں گے اور دیہی معیشت بھی مضبوط ہو گی۔ اسی لیے حکومت ایسی پالیسیوں پر کام کر رہی ہے جو کسانوں کو زیادہ منافع حاصل کرنے میں مدد دیں۔ یہاں دیہات کی ترقی کے حوالے سے ایک بہت اہم پہلو یہ سامنے آ رہا ہے کہ چین دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ صنعتوں کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف خام فصلیں فروخت کرنے کے بجائے ان سے تیار شدہ مصنوعات بنائی جائیں تاکہ ان کی قیمت اور منافع میں اضافہ ہو سکے۔چین کے صوبہ ہینان کو اس حوالے سے ایک نمایاں مثال کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ یہ صوبہ گندم کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ تاہم یہاں صرف گندم اگائی ہی نہیں جاتی بلکہ اسے مختلف مصنوعات میں بھی تبدیل کیا جاتا ہے۔ہینان میں چین کے تقریباً ایک تہائی انسٹنٹ نوڈلز، ایک چوتھائی اسٹیمنگ بنز اور تقریباً ستر فیصد ڈمپلنگز تیار کیے جاتے ہیں۔ اس صنعت نے مقامی معیشت کو مضبوط بنانے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پھر چین نے ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا ہے جس میں زراعت کو صنعت اور سیاحت کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر بہت سے علاقوں میں زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ مقامی ثقافت اور سیاحت کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس طرح ایک ہی علاقے میں مختلف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔پھر چین کی دیہی ترقی کی پالیسی میں ایک اہم عنصر شہروں اور دیہات کے درمیان وسائل اور صلاحیتوں کا تبادلہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ہنر مند افراد اور سرمایہ دیہی علاقوں تک پہنچے تو وہاں نئی توانائی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے چین نے ایسے پروگرام شروع کیے ہیں جن کے ذریعے تعلیم یافتہ افراد کو دیہی علاقوں میں کام کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کو بھی بہت اہمیت دے رہا ہے۔ نئی اقسام کی فصلیں، بہتر زرعی طریقے اور جدید ٹیکنالوجی زرعی پیداوار میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ تحقیق کے ذریعے نہ صرف پیداوار بڑھائی جا رہی ہے بلکہ زرعی شعبے کو زیادہ پائیدار بنانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
چین کی پالیسی صرف زرعی ترقی تک محدود نہیں بلکہ اسے ایک وسیع تر دیہی احیاء کے تصور کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میں صنعت، تعلیم، ثقافت، تنظیمی ڈھانچے اور ماحولیات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس جامع حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ دیہات کو ایک مکمل معاشی اور سماجی نظام کے طور پر ترقی دی جائے۔چین کی اسی دیہی ترقی کی حکمت عملی سے پاکستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ ہماری زیادہ تر آبادی دیہات سے وابستہ ہے اور ملکی معیشت کا بھی ایک بڑا حصہ زرعی پیدوار پر منحصر ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے جس میں زراعت کی جدت، دیہات کی ترقی اور دیہی علاقوں کے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری شامل ہے۔ اگر دیہات مضبوط ہوں گے تو ملک بھی مضبوط ہو گا۔