Gas Leakage Web ad 1

دماغ کو ہمیشہ جوان رکھنا چاہتے ہیں؟ تو چند مشروبات مددگار ثابت ہوسکتے ہیں

0

ہمارے دماغ کو اپنے افعال انجام دینے کے لیے بڑی مقدار میں توانائی درکار ہوتی ہے، اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہم روزانہ غذا سے حاصل ہونے والی مجموعی کیلوریز کا تقریباً 20 فیصد حصہ دماغ استعمال کرتا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اگر بڑھتی عمر کے ساتھ دماغی کارکردگی کو بہتر اور یادداشت کو مضبوط رکھنا مقصود ہو تو کچھ مشروبات کا استعمال فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

سابق صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کی والدہ کی نماز جنازہ ادا، اعلیٰ شخصیات کی شرکت

ایسے مشروبات میں کافی شامل ہے، جس میں موجود کیفین نہ صرف دماغ کو متحرک رکھتی ہے بلکہ توجہ مرکوز کرنے میں بھی مدد دیتی ہے اور مزاج کو بہتر بناتی ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق معتدل مقدار میں کافی پینے سے فالج اور الزائمر جیسے امراض کے خطرے میں کمی آ سکتی ہے۔

سبز چائے بھی ان مشروبات میں شامل ہے جس میں کیفین کی کچھ مقدار پائی جاتی ہے اور یہ بھی دماغی فعالیت کو بہتر بناتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں موجود مرکبات یادداشت کو مضبوط کرنے اور توجہ بڑھانے میں مددگار ہوتے ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق ان اجزا کا امتزاج مجموعی دماغی صحت کے لیے مفید ہے۔

بیریز کے جوسز، جیسے بلیک بیریز، بلیو بیریز اور اسٹرابیری کے جوس، بھی دماغ کے لیے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔ ان پھلوں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس دماغی خلیات کو تکسیدی تناؤ سے بچاتے ہیں اور یادداشت کو بہتر بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔

ہلدی کی چائے بھی ایک مفید مشروب ہے، جو نہ صرف ذائقے میں اضافہ کرتی ہے بلکہ اسے ورم کش خصوصیات کی بنا پر اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے جلد، جوڑوں اور نظام ہاضمہ کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ ورم میں کمی سے الزائمر جیسے امراض کا خطرہ کم ہو سکتا ہے اور دماغی افعال بہتر ہو سکتے ہیں، اسی لیے تحقیق میں اس کے اثرات کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے۔

چقندر کا جوس اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم کو مضر مادوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس میں موجود نائٹریٹس خون کی شریانوں کو کشادہ کرتے ہیں اور بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ چونکہ بلند فشار خون کو فالج اور ڈیمینشیا کے خطرے سے جوڑا جاتا ہے، اس لیے چقندر کا جوس دماغی تھکاوٹ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ہاٹ چاکلیٹ میں فلیونولز نامی نباتاتی مرکبات پائے جاتے ہیں، جو توجہ اور یادداشت کو بہتر بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔ اس مشروب کے باقاعدہ استعمال سے عمر کے ساتھ ہونے والی دماغی کمزوری کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جنہیں ڈیمینشیا کا زیادہ خدشہ ہو، تاہم اس کی زیادہ مقدار سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس میں چکنائی، کیلوریز اور شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

لیموں پانی بھی ایک اہم مشروب ہے کیونکہ جسم، خصوصاً دماغ کو مناسب مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی کی کمی دماغی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ چونکہ دماغ کا تقریباً 75 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے پانی میں لیموں شامل کر کے پینا فائدہ مند ہوتا ہے۔ لیموں میں موجود اجزا خلیات کے تحفظ میں مدد دیتے ہیں اور اس کی خوشبو مزاج پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔

یہ تمام معلومات طبی جریدوں میں شائع تحقیقی مواد پر مبنی ہیں، اور قارئین کو چاہیے کہ اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی مشورہ کریں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.