وزیراعظم نے نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجرا کا نوٹس لے لیا
وزیراعظم نے نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجرا کا نوٹس لے لیا
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا کی جانب سے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجرا کا فوری نوٹس لے لیا۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت نیپرا کے نئے ریگولیشنز کے اجرا پر اعلیٰ سطح کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، عطا تارڑ، اویس لغاری، پرویز ملک، بلال کیانی، محمد علی اور احد چیمہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔
گلگت بلتستان کے سیاسی رہنماؤں کی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیپرا سولر صارفین کے کانٹریکٹس کے تحفظ سے متعلق نظرثانی اپیل دائر کرے اور موجودہ کانٹریکٹس کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ سولر کے 4 لاکھ 66 ہزار صارفین کا مالی بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ نیشنل گرڈ بجلی صارفین پر منتقل نہ ہو۔ اس کے علاوہ، پاور ڈویژن کو اس ضمن میں جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
سولر صارفین سے متعلق نئے ریگولیشنز کے مطابق، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے ریٹس کم کر دیے ہیں۔ پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے ریٹس پر بیچیں گے، مگر نئے صارفین کے لیے فی یونٹ قیمت میں 17 روپے 19 پیسے کی بڑی کمی کر دی گئی ہے، یعنی نئے صارفین کو اب ہر یونٹ کے بدلے صرف 8 روپے 13 پیسے ملیں گے۔
مزید برآں، نئے اور پرانے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کا نظام بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب صارف کا یونٹ سرکاری یونٹ کے برابر نہیں ہوگا بلکہ نیشنل گرڈ سے لی گئی بجلی کی فی یونٹ قیمت حکومت کے ٹیرف اور سلیبس کے حساب سے طے ہوگی۔ نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی مدت بھی سات سال سے کم کر کے پانچ سال کر دی گئی ہے۔