ونہار کی پکار — جب ایک دھڑکن سوال بن جائے (ایک طرف چند منٹ میں زندگی بچانے والا نظام، دوسری طرف ڈیڑھ سو کلومیٹر کا فاصلہ)
حرفِ محتاط / ملک خالد ضمیر
رات کا کوئی پہر تھا۔ اچانک سینے کے بائیں جانب درد اٹھا۔ پہلے ہلکا تھا، پھر بڑھتا گیا۔ قریب کی ڈسپنسری لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور ایک ایسا جملہ کہا جس کے بعد گھر والوں کے چہروں کا رنگ بدل گیا:
دو امکانات ہیں؛ یا تو معدے کی شدید تکلیف ہے، یا دل کا دورہ۔
ابتدائی علاج شروع ہوا، مگر درد کم نہ ہوا۔ پھر کسی نے کہا:
مزید ایک لمحہ ضائع نہ کریں، راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جائیں۔
خوش قسمتی سے مریض وہاں سے چند منٹ کے فاصلے پر تھا۔
پھر ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے مجھے صرف متاثر نہیں کیا، مجھے اندر سے ہلا دیا۔
ہسپتال کے دروازے پر گاڑی رکی تو کسی نے نہیں پوچھا: پرچی کہاں ہے؟ ٹوکن کہاں ہے؟ شناختی کارڈ؟ سفارش؟ پہلے فیس؟ نہیں۔
ایک مریض آیا تھا۔
اور نظام حرکت میں آ گیا۔
ECG
ہوئی۔ غیر معمولی کیفیت نظر آئی تو فوراً Echo
گیا۔ صورتِ حال واضح ہوئی تو مریض کو بغیر وقت ضائع کئے انجیوگرافی کی طرف منتقل کر دیا گیا – کوئی بحث، کوئی غیر ضروری انتظار، کوئی "کل آنا” نہیں۔
زندگی خطرے میں تھی، اس لیے وقت کو بھی خطرے میں نہیں ڈالا گیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ تین شریانوں میں رکاوٹیں تھیں۔ فوری طبی مداخلت کی گئی، ایک شریان کھولی گئی اور باقی کے لیے ادویاتی علاج کا فیصلہ ہوا۔ چند روز بعد وہ شخص دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ رہا تھا۔
میں نے ڈاکٹروں کو دیکھا، نرسوں کو دیکھا، عملے کو دیکھا۔
اور دل نے کہا:
یہ لوگ فرشتے نہیں تو مسیحا ضرور ہیں۔
پھر ایک ایمبولینس آئی۔ ایک مریض رکشے سے اترا۔ کوئی سوزوکی میں آیا، کوئی عام گاڑی میں۔
مگر کسی کے لیے پروٹوکول تبدیل نہیں ہوا۔
مریض پہلے۔
تشخیص فوراً۔. فوراً ای سی جی ، ضرورت ہو تو Echo۔
خطرہ ہو تو فوراً انجیو گرافی یا حتمی اقرامات ۔
اور اگر دل کا مسئلہ نہ ہو تو دوسرے شعبے میں منتقل۔
یہ وہ نظام تھا جہاں انسان کو پہلے انسان سمجھا جا رہا تھا۔
اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب میرے ذہن میں ونہار کا سوال پوری شدت سے جاگا۔
میں نے سوچا، اگر یہی درد ونہار میں اٹھتا؟ بوچھال کلاں، منارہ، چوا سیدن شاہ، للہ یا پنڈ دادن خان میں؟
کیا مریض بھی چند منٹ میں اسی نظام تک پہنچ سکتا؟
نہیں۔
وہ شاید پہلے کسی مقامی مرکز جاتا، پھر ریفر ہوتا، پھر ایک اور سفر، پھر ایمبولینس، پھر سڑک، پھر وقت۔
اور دل کا دورہ؟
دل کا دورہ وقت سے مذاکرات نہیں کرتا۔
تقریباً چھ ماہ پہلے میں نے اسی قلم سے لکھا تھا:
"ونہار کی پکار۔۔۔ ترقی کی شاہراہ سے زندگی کی منزل تک”
تب بھی یہی کہا تھا کہ ہمیں سڑکوں کے ساتھ زندگی کی حفاظت بھی چاہیے۔ ایسا ہسپتال چاہیے جہاں مریض کو علاج کے لیے راولپنڈی کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔
مگر آج، چھ ماہ بعد، سوال پہلے سے زیادہ بے رحم ہے:
آخر کب تک؟
کب تک ونہار کا مریض اپنی بیماری کے ساتھ سفر کرے گا؟
کب تک ایک ماں اپنے بیٹے کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دعا کرے گی کہ راستہ ختم ہونے سے پہلے سانس ختم نہ ہو؟
اور کب تک ہم ترقی کے اعداد گنواتے رہیں گے، جبکہ ہمارے لوگ علاج کے فاصلے گن رہے ہیں؟
گزشتہ روز ایک اور انسان دل کی تکلیف کے بعد ٹراما سینٹر پہنچا۔ عملے نے اپنی استطاعت کے مطابق جان بچانے کی پوری کوشش کی۔ CPR، وینٹی لیٹر اور فوری طبی اقدامات کیے گئے، پھر اسے راولپنڈی منتقل کرنے کی کوشش ہوئی۔
مگر منزل تک پہنچنے سے پہلے اس کی سانسوں کی ڈور ٹوٹ گئی۔ اور نہ جانے اور کتنوں کی سانسیں ٹوٹی یونگی ، ریکارڈ کون رکھتا یے
یہاں میں ٹراما سینٹر کے ڈاکٹر یا عملے کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا۔
وہ خود ایک ایسے نظام کے سپاہی ہیں جس نے انہیں وسائل سے کہیں زیادہ ذمہ داری دے دی ہے۔
محدود بجٹ، ناکافی عملہ، نامکمل عمارت اور محدود طبی سہولیات کے باوجود یہ مرکز علاقے کے لوگوں کی بڑی خدمت کر رہا ہے۔
تو پھر سوال یہ کیوں نہ ہو کہ ہم انہیں موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ان کے ہاتھ مضبوط کیوں نہ کریں؟
بجٹ بڑھایا جائے، ڈاکٹر اور طبی عملہ فراہم کیا جائے، ضروری آلات دیے جائیں اور انہیں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے۔
اصل سوال کہیں اور ہے۔
جس مرکز کو بنیادی طور پر محدود مقامی ضرورت اور موٹر وے حادثات کے لیے بنایا گیا تھا، آج وہ پورے علاقے کی طبی ضروریات کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
معتبر معلومات کے مطابق موجودہ بجٹ تقریباً دو کروڑ ساٹھ لاکھ روپے ہے، جس میں سے تقریباً ایک کروڑ ستر لاکھ روپے بجلی پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ تقریباً چالیس اے سی، تین ڈائیلاسز مشینیں، ماہانہ 110 سے 120 سیزیرین کیسز، مفت لیبر روم، ایمرجنسی اور ادویات—سب اسی محدود نظام پر ہے۔
تو سوال ٹراما سینٹر سے نہیں۔
سوال اس نظام سے ہے جو ایک چھوٹے سے مرکز کو پورے علاقے کا ہسپتال سمجھ کر مطمئن بیٹھا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اگر بجٹ تقریباً چھ کروڑ روپے کر دیا جائے تو موجودہ مرکز کو نمایاں طور پر مضبوط کرکے مزید طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
تو پھر رکاوٹ کیا ہے؟
رقم؟
فیصلہ؟
ترجیح؟
یا صرف یہ خیال کہ ونہار کے لوگ ہمیشہ انتظار کرتے رہیں گے؟
یہ سوال اب میں صرف مقامی نمائندوں سے نہیں پوچھ رہا۔
میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف صاحبہ، محترمہ مہوش سلطانہ صاحبہ اور ملک تنویر اسلم اعوان صاحب سے ایک ہی سوال پوچھ رہا ہوں: آپ کے پاس اختیار، رسائی اور آواز ہے؛ کیا آپ اس مطالبے کو فیصلہ ساز ایوانوں تک لے جا کر ونہار اور تحصیل کلرکہار کے لیے ایک ایسا طبی مرکز نہیں دلوا سکتے جو آنے والی نسلوں کے لیے زندگی کی ضمانت بن جائے؟
اور اس مطالبے کی ایک عملی صورت بھی موجود ہے۔ اگر ٹراما سینٹر کو فوری طور پر اپ گریڈ کرنا مشکل ہے تو RHC بوچھال کلاں کی موجودہ عمارت کو ہی ایک مکمل کارڈیک سینٹر میں تبدیل کرنے پر غور کیا جائے۔ بوچھال کلاں ونہار اور تحصیل کلرکہار کے مرکزی مقام پر واقع ہے؛ یہاں ایک مؤثر کارڈیک مرکز پورے علاقے کے لیے بہت بڑی طبی امداد ثابت ہو سکتا ہے۔ اور اگر یہ فیصلہ مریم نواز شریف صاحبہ کے دور میں ہو جائے تو یہ مرکز ان کی خدمات کو صرف آج نہیں بلکہ تادیر یاد رکھنے کی ایک زندہ علامت بن سکتا ہے۔
اور اس دھرتی سے تعلق رکھنے والے تمام جنرلز، بریگیڈیئرز، عسکری قیادت، اعلیٰ بیوروکریٹس، اہلِ علم، ادیبوں اور صحافیوں سے بھی سوال ہے:
آپ کے پاس اختیار ہے، رسائی ہے، آواز ہے، اثر ہے۔
کیا آپ اپنی مٹی کے لیے ایک ہسپتال نہیں مانگ سکتے؟
یہ سوال سخت ہے۔
کیونکہ جب اختیار موجود ہو، وسائل تک رسائی ہو اور فیصلے کروانے کی صلاحیت ہو، پھر بھی بنیادی طبی ضرورت برسوں پوری نہ ہو تو اخلاقی جواب دہی کا سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔
حضرت عمرؓ سے منسوب ایک مشہور قول ہمیں حکمرانی کا ایک بڑا اصول یاد دلاتا ہے کہ فرات کے کنارے کسی جانور کی تکلیف بھی حاکم کے لیے جواب دہی کا باعث بن سکتی ہے۔ تاریخی نسبت سے قطع نظر، تصور گہرا ہے:
اختیار عہدہ نہیں، امانت ہے۔
تو پھر کل اگر اس علاقے کا کوئی نوجوان بروقت علاج نہ ملنے سے مر جائے، کوئی ماں اپنے بیٹے کو کھو دے، کوئی باپ اپنے جوان بیٹے کا جنازہ اٹھائے تو ہم کم از کم اللہ کی عدالت میں اتنا تو پوچھ سکتے ہیں:
جن کے پاس آواز تھی، انہوں نے آواز کب اٹھائی؟
جن کے پاس اختیار تھا، انہوں نے اختیار کب استعمال کیا؟
اب بھی وقت ہے۔
سڑکیں بنتی رہیں۔ اسکول بنتے رہیں۔ عمارتیں بنتی رہیں۔ ترقی کے منصوبے جاری رہیں۔
مگر خدارا، انسان کو ترقی کی فہرست میں سب سے آخر میں نہ رکھیں۔
کیونکہ اسکول میں بچے تب جائیں گے جب وہ زندہ ہوں گے۔
سڑک پر لوگ تب چلیں گے جب ان کی سانسیں سلامت ہوں گی۔
اور ترقی کا جشن تب ہی معنی رکھتا ہے جب کسی باپ کو اپنے جوان بیٹے کی لاش کندھے پر اٹھا کر یہ نہ کہنا پڑے:
"کاش ہمارے قریب ایک ہسپتال ہوتا۔”
میری آواز آج پھر وہیں ہے جہاں چھ ماہ پہلے تھی۔
مگر اس بار لہجے میں التجا کے ساتھ احتساب کا سوال بھی ہے۔
ہمیں کسی کے خلاف جنگ نہیں چاہیے۔
ہمیں کسی سے سیاسی دشمنی نہیں چاہیے۔
ہمیں صرف ایک فیصلہ چاہیے:
ونہار اور تحصیل کلرکہار کو ایک جدید، مکمل اور فعال ہسپتال دیں۔
اور اگر یہ فوری طور پر ممکن نہیں تو موجودہ ٹراما سینٹر کو وہ بجٹ، عملہ، آلات اور قلبی ہنگامی سہولیات دیں جن سے کم از کم چند منٹوں کے فاصلے پر زندگی بچانے کا امکان پیدا ہو سکے۔
اہلِ قلم لکھیں۔ اہلِ علم بولیں۔ صحافی سوال کریں۔ منتخب نمائندے آواز اٹھائیں۔ بااثر لوگ اپنا اثر استعمال کریں۔ عوام اس مطالبے کو اپنی اجتماعی آواز بنائیں۔
کیونکہ شاید کسی ایک آواز سے نظام نہ بدلے۔
مگر جب پوری مٹی بولنے لگے تو خاموشی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔
ونہار نے بہت تعمیر دیکھ لی۔
اب اسے زندگی کی تعمیر چاہیے۔
اور اس بار ہماری پکار صرف پکار نہیں ہونی چاہیے۔
یہ ایک مطالبہ ہونا چاہیے: ہمیں ہسپتال چاہیے۔
(حرف محتاط /ملک خالد ضمیر )