Gas Leakage Web ad 1

نئے صوبے یا نئی سیاسی اور انتظامی سوچ کی ضرورت؟

عابد رشید

0

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی جنوبی پنجاب، کبھی بہاولپور، کبھی ہزارہ اور کبھی بلوچستان کے مختلف علاقوں سے نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان مطالبات کے پیچھے صرف سیاسی خواہش نہیں بلکہ محرومی، کمزور نمائندگی، انتظامی دوری اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم جیسے حقیقی مسائل بھی موجود ہیں۔ اس لیے نئے صوبوں کے مطالبے کو محض سیاسی نعرہ قرار دے کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال ضرور پوچھنا ہوگا:کیا نئے صوبے واقعی ہماری حکمرانی کے مسائل حل کر دیں گے؟
اگر نئے صوبے بننے کے بعد بھی اختیار چند لوگوں اور چند دفاتر تک محدود رہے، مقامی حکومتیں بے اختیار رہیں، فیصلے اوپر سے مسلط ہوتے رہیں اور عام شہری اپنے بنیادی مسائل کے لیے صوبائی دارالحکومتوں کے چکر لگاتا رہے تو نئی انتظامی حد بندی سے اس کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ نیا صوبہ نئی اسمبلی، نئی وزارتیں اور نئی بیوروکریسی تو پیدا کر سکتا ہے، مگر بہتر حکمرانی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک "اندازِ حکمرانی” تبدیل نہ ہو۔
نئے صوبے بنانے سے پہلے ہمیں ’’عوامی خدمت‘‘ کے مفہوم پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ہمارے ہاں ریاستی عہدہ اکثر خدمت کے بجائے مراعات، اختیار، پروٹوکول اور سیاسی تشہیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم، وزرا اور ارکانِ پارلیمان کی تنخواہوں، مراعات، سرکاری گاڑیوں، رہائش اور دیگر سہولتوں کو عوامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس پورے نظام میں حقیقی عوامی خدمت کہاں ہے؟
جب عوام کے خون پسینے سے جمع ہونے والے وسائل سے مراعات کا ایسا نظام قائم ہو جس میں اقتدار کے قریب رہنے والوں کے لیے سہولتیں بڑھتی جائیں، جبکہ عام شہری کے لیے بجلی، پانی، تعلیم، صحت اور روزگار بنیادی مشکلات بن جائیں تو اسے محض عوامی خدمت قرار دینا انصاف نہیں۔ ریاستی منصب اگر واقعی خدمت ہے تو اس کا مطلب مراعات حاصل کرنا نہیں بلکہ ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا ہے۔ عوامی نمائندہ عوام کا مالک نہیں بلکہ ان کا نمائندہ ہے، جبکہ سرکاری خزانہ حکمرانوں کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔
پاکستان کے عام شہری کو صاف پانی، بہتر سیوریج، کچرا اٹھانے کا مؤثر نظام، گلیوں کی صفائی، مقامی سڑکیں، مناسب ٹرانسپورٹ، پارک اور دیگر بنیادی شہری سہولتیں درکار ہیں۔ ان مسائل کا تعلق براہِ راست مقامی حکومت سے ہے، لیکن ہماری سیاسی روایت میں ان ذمہ داریوں کو بھی ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ قانون ساز قانون سازی کرے اور مقامی حکومت مقامی مسائل حل کرے۔ ممبر قومی اسمبلی کا بنیادی کام قانون سازی، قومی پالیسی پر بحث، حکومت کی نگرانی اور عوام کی آواز پارلیمان تک پہنچانا ہے۔ ممبر صوبائی اسمبلی صوبائی قانون سازی اور صوبائی حکومت کی نگرانی کا ذمہ دار ہے، جبکہ سینیٹر قومی سطح پر قانون سازی اور وفاقی معاملات پر بحث کرتا ہے۔
جب قانون ساز ترقیاتی کاموں کے سیاسی ٹھیکیدار بن جاتے ہیں تو مقننہ کے ادارے کمزور ہونے لگتے ہیں۔ پارلیمان قانون سازی اور پالیسی کے بجائے گلیوں، سڑکوں اور نالیوں کے منصوبوں میں الجھ جاتی ہے، جبکہ مقامی حکومتیں وسائل اور اختیار کے انتظار میں بے بس رہتی ہیں۔ نتیجتاً عوام نمائندے کی کارکردگی کو قانون سازی اور پالیسی کے بجائے اس بات سے ناپنے لگتے ہیں کہ اس نے کتنی سڑکیں بنوائیں، کتنی گلیاں پکی کرائیں اور کتنی نالیاں تعمیر کروائیں۔ یوں نمائندگی کا معیار قانون سازی کے بجائے اینٹ، سیمنٹ اور تارکول بن جاتا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کی سیاست بھی ہماری سیاسی روایت کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔ عوام کے ٹیکس سے بننے والی سڑک پر سیاسی شخصیت کی تصویر، سرکاری منصوبے پر سیاسی جماعت کا نام، افتتاحی تقریب میں بینر اور پھر سرکاری وسائل سے تشہیری مہم یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ جس منصوبے کی رقم عوام نے ادا کی، اس پر کسی فرد کی تصویر کیوں؟
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے منصب کو بھی سیاسی نمائش سے نکال کر ریاستی ذمہ داری کے دائرے میں واپس لانا ہوگا۔ وزیراعظم پورے ملک اور وزیراعلیٰ پورے صوبے کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے۔ ان کی اصل ذمہ داری پالیسی سازی، اداروں کی اصلاح، وسائل کی منصفانہ تقسیم، معیشت کی بہتری، تعلیم و صحت کے نظام کی نگرانی اور حکومت کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔ ہر سڑک، پل، نالی یا عمارت کا افتتاح کرنا ان کے منصب کا بنیادی تقاضا نہیں۔ ریاستی منصوبہ ریاست کا ہوتا ہے، کسی حکمران کا ذاتی کارنامہ نہیں۔
اس سے زیادہ تشویش ناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب سرکاری سکولوں اور کالجوں کے طلبہ کو افتتاحی تقریبات میں جمع کیا جائے، سرکاری ملازمین کو سیاسی اجتماعات میں بٹھایا جائے اور ماتحت اہلکاروں کی موجودگی سے کسی سیاسی شخصیت کی کامیابی کا ماحول بنایا جائے۔ بچوں کا وقت تعلیم کے بجائے سیاسی تقریبات میں اور سرکاری ملازمین کا وقت پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے بجائے سیاسی سرگرمیوں میں صرف ہونا صحت مند جمہوری روایت نہیں۔
اچھی حکومت کو تالیاں بجوانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر پانی کا مسئلہ حل ہو جائے تو شہری خود بتائیں گے، سڑک بہتر ہو تو اس کی حالت خود بولے گی، ہسپتال میں علاج کا معیار بلند ہو تو مریض گواہی دیں گے اور سکول میں تعلیم بہتر ہو تو اس کے نتائج کسی اشتہار کے محتاج نہیں ہوں گے۔ حکومت کی اصل تشہیر اس کی کارکردگی ہونی چاہئے، سرکاری خزانے سے چھپنے والے اشتہارات نہیں۔
اسی لئے نئے صوبوں کی بحث کو بلدیاتی نظام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم واقعی عوام کے قریب حکمرانی چاہتے ہیں تو مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ میئر، ضلعی حکومت، تحصیل اور یونین کونسل کو واضح اختیارات، مستقل مالی وسائل، مؤثر انتظامی ڈھانچہ اور فیصلے کرنے کی حقیقی آزادی دی جائے۔
جو کام مقامی سطح پر ہو سکتا ہے اسے صوبائی سیکریٹریٹ تک لے جانے کی ضرورت کیوں پڑے؟ اگر میئر کے پاس اختیار اور بجٹ موجود ہو تو شہری اس سے پوچھ سکتے ہیں کہ شہر صاف کیوں نہیں، پانی کیوں نہیں اور سڑکیں کیوں خراب ہیں۔ اگر مقامی حکومت ناکام ہو تو اگلے انتخاب میں اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہی جمہوریت کی بنیادی منطق ہے۔ لیکن اگر اختیار صوبے کے پاس ہو، پیسہ کسی اور کے پاس ہو، فیصلہ کوئی اور کرے اور ناکامی کا ذمہ دار مقامی نمائندہ قرار پائے تو جواب دہی کا تصور بے معنی ہو جاتا ہے۔
اس سب کے باوجود کیا نئے صوبوں کی ضرورت باقی رہتی ہے؟ جواب ہے: ہاں، بعض حالات میں۔۔۔۔۔ کچھ علاقے جغرافیائی، معاشی اور انتظامی اعتبار سے اس قدر مختلف ہو سکتے ہیں کہ ایک بڑے صوبے کے اندر ان کی مؤثر نمائندگی اور انتظام مشکل ہو جائے۔ پنجاب کی غیر معمولی آبادی، بلوچستان کا وسیع رقبہ، سندھ کا شہری و دیہی فرق اور خیبر پختونخوا کے دشوار گزار علاقے ایسے سوالات ضرور اٹھاتے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔
تاہم نئے صوبوں کا فیصلہ جذباتی نعروں یا انتخابی وعدوں کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ آبادی، جغرافیہ، معاشی صلاحیت، وسائل، مالی خود کفالت، انتظامی ضرورت اور عوامی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے غیر جانب دارانہ اور شفاف مطالعہ ضروری ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہونا چاہئے:
نیا صوبہ بننے کے بعد عام شہری کی زندگی میں کیا بدلے گا؟
اگر صرف ایک نیا دارالحکومت، نئی اسمبلی، نئی وزارتیں اور نئی بیوروکریسی وجود میں آنی ہے، جبکہ اختیار پھر بھی اوپر ہی رہنا ہے، تو ہم مسئلہ حل کرنے کے بجائے شاید اس کی ایک نئی عمارت تعمیر کر رہے ہوں گے۔
پاکستان کو نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ نئی سیاسی اور انتظامی سوچ کی بھی ضرورت ہے۔ وفاق اپنے آئینی دائرے میں رہے، صوبے قانون سازی اور صوبائی پالیسی سازی کریں، پارلیمان قانون بنائے اور حکومت کی نگرانی کرے، جبکہ مقامی حکومتیں شہریوں کی روزمرہ زندگی کے مسائل حل کریں۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کا کام اداروں کو مضبوط بنانا ہو، ہر منصوبے کی تختی کی رونمائی نہیں۔ ارکانِ اسمبلی کا کام قانون سازی ہو، گلی محلے کے ترقیاتی منصوبوں کے سیاسی ٹھیکیدار بننا نہیں۔
ہمیں اپنے ذہن میں یہ تبدیلی لانا ہوگی کہ اقتدار خدمت کا ذریعہ ہے، استحقاق کا نہیں؛ سرکاری خزانہ امانت ہے، ذاتی جیب نہیں؛ اور ترقیاتی منصوبہ عوام کا حق ہے، کسی حکمران کا ذاتی کارنامہ نہیں۔
نئے صوبے بعض علاقوں کی ضرورت ہو سکتے ہیں، لیکن ہر انتظامی مسئلے کا حل نیا صوبہ نہیں ہوتا۔ کبھی مسئلہ نئی سرحد کا نہیں بلکہ اختیار کی غلط جگہ پر موجودگی کا ہوتا ہے۔ کبھی نئی وزارت کی نہیں بلکہ موجودہ ادارے کو کام کرنے دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی نئے دارالحکومت کی نہیں بلکہ ایک بااختیار میئر کی ضرورت ہوتی ہے۔
آخرکار اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں چار صوبے ہیں، چھ ہیں یا آٹھ۔ اصل سوال یہ ہے کہ اختیار کہاں ہے؟ وسائل کس کے پاس ہیں؟ فیصلہ کون کرتا ہے؟ اور جواب دہ کون ہے؟
اگر ہم ان چار سوالوں کا درست جواب تلاش کر لیں تو نئے صوبوں کی بحث بھی زیادہ سنجیدہ ہو جائے گی اور ہماری جمہوریت بھی زیادہ بالغ۔ نئی سرحدیں انتظامی فاصلہ کم کر سکتی ہیں، مگر بااختیار ادارے ہی ریاست اور شہری کے درمیان اصل فاصلہ کم کرتے ہیں۔
پاکستان کو آج شاید نئے صوبوں سے بھی زیادہ نئی سیاسی اور انتظامی سوچ کی ضرورت ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.