Gas Leakage Web ad 1

اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل سپرنڈنٹ کی بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے الزامات کی تردید

0

جیل سپرنٹنڈنٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو جیل میں دیگر قیدیوں کی طرح قانون کے مطابق سہولیات اور حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی، بشمول بشریٰ بی بی، کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قیدِ تنہائی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے اور طویل عرصے سے عدالتوں کی جانب سے بھی ایسی سزا نہیں دی جا رہی۔
زیادہ چینی کھانے کا ایک اور بڑا نقصان دریافت
سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہونے کے باعث سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اضافی انتظامات کیے گئے ہیں، تاہم ان کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی یا غیر مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا۔

جیل حکام کے مطابق بشریٰ بی بی کی نگرانی خواتین افسران اور عملہ کرتا ہے، جو ان کی روزمرہ ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔ خاتون میڈیکل آفیسر روزانہ کم از کم دو مرتبہ ان کا طبی معائنہ کرتی ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر خصوصی طبی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو قدرتی روشنی، تازہ ہوا اور جیل مینوئل کے مطابق رازداری کی سہولیات بھی حاصل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کو ہر منگل اپنے شوہر اور بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کی اجازت حاصل ہے، جبکہ ان کی حراست کی جگہ کو محفوظ اور پُرامن قرار دیا گیا ہے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے سے متعلق اعتراضات حقائق کے بجائے مفروضوں پر مبنی ہیں، اور عدالت سے درخواست کی کہ اس حوالے سے دائر درخواست مسترد کی جائے۔

دوسری جانب اس معاملے پر حتمی فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں فریقین کے مؤقف اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کرے گی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.