لندن: برطانیہ میں روزانہ تقریباً 2 لاکھ پاؤنڈ مالیت کا پیٹرول چوری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایران جنگ کے باعث شروع ہونے والے پیٹرول بحران کے بعد برطانیہ بھر کے پیٹرول پمپس سے ڈرائیورز روزانہ تقریباً 2 لاکھ پاؤنڈ مالیت کا پیٹرول بغیر ادائیگی کیے لے جا رہے ہیں۔
پیٹرول چوری کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی کمپنی فور کورٹ آئی کے تجزیے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے بعد کے 5 ماہ کے دوران اس سے پہلے کے 5 ماہ کے مقابلے میں پیٹرول چوری کے واقعات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کا 8 اگست سے غیر معینہ مدت تک ملک گیر ہڑتال کا اعلان
جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں چوری ہونے والے پیٹرول کی مجموعی مالیت میں 48 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملک کے 8 ہزار 359 پیٹرول پمپس پر روزانہ اوسطاً 194 ہزار پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے۔
فور کورٹ آئی کے مطابق پہلی بار بغیر ادائیگی کے پیٹرول لے جانے والوں کی تعداد میں 23 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بار بار ایسا کرنے والوں کی شرح 17 سے 20 فیصد رہی۔ اس کے علاوہ چوری کیے گئے پیٹرول کی مقدار میں بھی 26 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اعداد و شمار ملک بھر کے 550 نمائندہ پیٹرول پمپس سے موصول ہونے والی رپورٹس پر مبنی ہیں۔
برطانیہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت 160 پینس فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جو تنازع سے پہلے کے مقابلے میں 27 پینس زیادہ ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 179 پینس فی لیٹر ہوگئی ہے جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 37 پینس زیادہ ہے۔
فور کورٹ آئی نے اپنے صارفین کو پیٹرول چوری کی روک تھام کے لیے مفت ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے فیس واچ سسٹم کے تحت شناخت کیے گئے ملزمان کے بارے میں فوری اطلاع موصول ہوسکے گی۔
پیٹرول ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر گورڈن بالمر کے مطابق عملے کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، حالانکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا عملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔