نئے قانون کے تحت سپیکر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی صحافی کو اسمبلی کی کارروائی کی کوریج سے روک سکے اور مخصوص مدت کے لیے اس پر پابندی عائد کر سکے۔
بل کے مطابق سپیکر کسی بھی اسمبلی کارروائی کو شائع یا نشر کرنے سے روکنے کا اختیار بھی رکھے گا۔ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے شخص یا صحافی کو چھ ماہ تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق
قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی صحافی یا ادارہ اسمبلی کی کارروائی کو توڑ مروڑ کر رپورٹ کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی، جس کے تحت متعلقہ صحافی کو تین سال تک قید اور تین لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
بل کے مطابق سپیکر پر جانبداری کا الزام لگانے یا ان کے کردار پر تنقید کرنے والے صحافی کو بھی چھ ماہ تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
اسی طرح کسی بھی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کیے جانے سے قبل نشر یا شائع کرنے پر تین ماہ تک قید اور تین لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
علاوہ ازیں، تحریک التوا کو اسمبلی میں پیش کیے جانے سے قبل نشر یا شائع کرنے کی صورت میں ایک ماہ تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ قانون اپریل میں اضافی ایجنڈے کے ذریعے منظور کیا گیا تھا، تاہم اسے کئی ماہ تک منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔