امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر اسرائیل میں ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں بعض میڈیا حلقوں اور سیاسی شخصیات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایک اسرائیلی ٹی وی پروگرام کے میزبان نے اپنے تبصرے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے معاہدے پر ناراضی کا اظہار کیا۔
پٹرول سستا ہونے کے بعد سولر پلیٹس کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی
دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر اور مسلح تنازعات اور بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی مندوب وینیسا فریزر کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کا پس منظر اسرائیل سے متعلق اقوام متحدہ کی حالیہ کارروائیاں اور رپورٹس بتائی جا رہی ہیں۔
ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی اور سفارتی عمل کو چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو جاری مذاکراتی اور سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
تاہم ان دعوؤں اور تبصروں کے بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق اور سرکاری سطح پر مؤقف کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور مختلف فریقین کی جانب سے متضاد بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔



