اس معاہدے کا بنیادی مقصد پاکستان میں جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بگ ڈیٹا اینالیٹکس کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
بجٹ میں سولر پینلز، سٹیشنری اور سٹاک مارکیٹ ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اس موقع پر کہا کہ ڈیجیٹل رابطہ کاری کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جا رہا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں مصنوعی ذہانت کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی کو فروغ دینا حکومت کی ترجیح ہے اور حکومت ڈیجیٹل گورننس اور ڈیجیٹل معیشت کے ایجنڈے پر عمل کر رہی ہے، جبکہ ان کے مطابق ڈیٹا پر مبنی ترقی ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔
وزیر آئی ٹی نے مزید کہا کہ پاکستان میں اے آئی اور بگ ڈیٹا اینالیٹکس کی صلاحیتوں سے لیس ایک جدید ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر تیار کیا جائے گا۔