وفاقی بجٹ 2026-27 میں مجوزہ تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جولائی سے موٹر سائیکلیں 16 ہزار روپے تک مہنگی ہو سکتی ہیں جس سے عام صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ مہنگائی کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے مجوزہ ٹیکس میں اضافہ ہے، حکومت کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے جس کے تحت موجودہ 1 فیصد وفاقی ٹیکس کو بڑھا کر 3 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، یہ ٹیکس تمام پیٹرول اور کمبسشن انجن والی گاڑیوں پر لاگو ہوتا ہے جن میں موٹر سائیکلیں بھی شامل ہیں۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو جولائی 2026 سے موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں خودکار اضافہ متوقع ہے۔ پاکستان میں موٹر سائیکلیں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سواری ہیں جن پر ہر ماہ لاکھوں افراد انحصار کرتے ہیں، اس کے علاوہ ڈیلیوری رائیڈرز اور بائیک ٹیکسی سروس سے وابستہ افراد بھی کم قیمت ماڈلز جیسے ہونڈا سی ڈ ی70 استعمال کرتے ہیں جس کی قیمت میں کم از کم 3,100 روپے اضافے کا امکان ہے۔ اگر قومی اسمبلی 3 فیصد ٹیکس کی منظوری دے دیتی ہے تو ہونڈا، سوزوکی اور دیگر کمپنیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں فوری طور پر اپڈیٹ کر دی جائیں گی۔ متوقع اضافے کے مطابق مختلف موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں چند ہزار سے لے کر 16 ہزار روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
ہونڈا CD70 کی قیمت میں تقریباً 3,100 روپے اضافہ متوقع ہے جبکہ CG125 میں 4,500 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے، اسی طرح CB150F میں 10,100 روپے اور CG150 میں 9,100 روپے تک اضافہ ممکن ہے۔ سوزوکی GS150 کی قیمت میں تقریباً 8,100 روپے اضافہ متوقع ہے جبکہ GR150 اور GSX125 کی قیمتیں 10 ہزار روپے سے زائد بڑھ سکتی ہیں۔ ہائی اسپیڈ اور دیگر برانڈز بھی اس اثر سے محفوظ نہیں رہیں گے جہاں Cyclone 250 کی قیمت میں سب سے زیادہ یعنی تقریباً 16,000 روپے تک اضافہ متوقع ہے، اسی طرح یونائیٹڈ، روڈ پرنس اور دیگر برانڈز کی موٹر سائیکلیں بھی مہنگی ہو سکتی ہیں۔ فی الحال یہ تمام تبدیلیاں مجوزہ ہیں اور حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ 2026-27 کی منظوری کے بعد سامنے آئے گا، حکومت یہ بجٹ کل 12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کرے گی جس کے بعد صورتحال واضح ہو جائے گی۔ اس لیے موٹر سائیکل خریدنے کے خواہشمند افراد کو آئندہ اعلان پر نظر رکھنی چاہیے۔