مین ہیڈنگ: سمندر کو سانس لینے دو، سمندری حیات کو جینے دو!
عالمی یومِ بحر، سمندر کی اہمیت اُجاگر کرنے کا دن
شفق رفیع
دُنیا کا تقریباً 3 چوتھائی یا 70 فیصد حصّہ سمندر پر مشتمل اور تقریباً 50 فی صد آکسیجن فراہم کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ قدرت کا یہ اَن مول تحفہ پانی، جو انسانی حیات کے لیے بے حد ضروری ہے،زمین کے لیے دل اور پھیپھڑے کی مانند ہے۔ تاہم، انسان بڑا سنگ دل اور بے حِس ہے کہ ہر اس چیز کو بے مول و بے وقعت سمجھ بیٹھتا ہے، جو اسے بِنا محنت و مشقّت اور ایک بھی پیسہ خرچ کیے بغیر مل جائے۔ ہم نے سمندر کے ساتھ بھی کچھ ویسا ہی سلوک برتا اور تا حال برت رہے ہیں اور ہماری اسی غفلت کی وجہ سے ہرگزرتے دن کے ساتھ یہ بیش بہا قدرتی خزانہ آلودہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
ہر سال 8 جون کو دُنیا بھر میں سمندروں کا عالمی دن (World Oceans Day)منایا جاتا ہے، جس کا مقصد سمندروں کی اہمیت کو اُجاگر کرنا،ان کا تحفّظ یقینی بنانا اور پائیدار استعمال کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنا ہے۔ اس سال اقوامِ متحدہ کے تحت یہ دن ’’ Reimagine: Beyond The World We Know, A New Relationship With Our Ocean” کے تھیم سے منایا جا رہا ہے، جو انسانوں کو سمندر کے ساتھ اپنے تعلق، اپنے رشتے کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور محض وسائل کے حصول کے بجائے اسے ایک مشترکہ قدرتی امانت سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ دن اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے علاقوں پر مشتمل ہماری ساحلی پٹّی تقریباً ایک ہزار کلو میٹر طویل ہے۔ سمندروں کا عالمی دن ہمیں ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی سمندری صلاحیتوں، معاشی امکانات اور ماحولیاتی ذمّے داریوں پر غور کرسکیں۔
پاکستان، جسے ہمیشہ سے زرعی مُلک ہونے کا فخر حاصل رہا ہے، اپنی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہی کرتا ہے، تاہم ماضی میں کبھی اس جانب توجّہ ہی نہیں دی گئی کہ ہمارے پاس سمندر کی صورت میں قدرت کا قیمتی خزانہ ہے، جس پر توجّہ دے کر بلیو اکانومی کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی معاشی ترقی، تجارت، روزگار اور قومی سلامتی کا ایک بڑا حصّہ سمندر سے وابستہ ہے۔
بلیو اکانومی اور سمندری وسائل کے تحفّظ میں پاک بحریہ کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف سمندروں کی پاسبانی نہیں کرتی بلکہ پاکستان کی بلیو اکانومی کے فروغ اور سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
پاکستان کی تقریباً تمام بین الاقوامی تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے، لہٰذا بندرگاہوں، تجارتی جہازوں اور مواصلاتی بحری گزرگاہوں کا محفوظ رہنا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ پاک بحریہ بحیرۂ عرب میں میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز، انسدادِ قزاقی کارروائیوں، سمندری آلودگی کی روک تھام اور غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف اقدامات کے ذریعے نہ صرف قومی مفادات کا تحفظ کر رہی ہے بلکہ خطّے میں محفوظ اور پائیدار سمندری ماحول کے قیام میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
نیز، پاک بحریہ کی جانب سے منعقد کی جانے والی امن (AMAN) مشقیں اور امن ڈائیلاگ سمندری سلامتی، بلیو اکانومی اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کے حوالے سے عالمی تعاون کو فروغ دینے کی ایک روشن مثال ہے۔
کراچی، قاسم اور گوادر جیسی بندرگاہیں نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی تجارت کا مرکز ہیں، بلکہ ملکی معیشت کی شہ رگ بھی سمجھی جاتی ہیں۔ پاکستان کی تقریباً 95 فی صد بین الاقوامی تجارت سمندری راستوں کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر پاکستان کے لیے صرف پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں بلکہ معاشی بقاء اور ترقّی کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق 2030ء تک سمندری صنعتوں سے وابستہ شعبوں میں تقریباً چار کروڑ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان میں بھی بلیو اکانومی کے فروغ کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ ماہی گیری، شپنگ، پورٹ سروسز، ساحلی سیاحت، سمندری توانائی، جہاز سازی اور میرین بائیوٹیکنالوجی جیسے شعبے ملکی معیشت کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔اگر مناسب منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی جائے، تو پاکستان نہ صرف خطّے کی ایک اہم بحری معیشت بن سکتا ہے بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔
تاہم، سکّے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سمندری وسائل کے غیر ذمّے دارانہ استعمال، ماحولیاتی آلودگی، صنعتی فضلے اور پلاسٹک سے ہونے والی آلودگی نے سطح سمندر اور زیر سمندر بسنے والی حیات کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بڑی مچھلیوں کی 90 فیصد آبادی اس آلودگی سےمتاثر ہوئی ہے۔
آلودگی نہ صرف سمندری حیات کو متاثر کرتی ہے بلکہ ماہی گیروں کی آمدنی اور ساحلی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی ،تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو ماہی گیری اور دیگر سمندری شعبوں میں سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کے لاکھوں افراد کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ سمندر سے وابستہ ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ہزاروں خاندان ماہی گیری پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی طرح بندرگاہوں، شپنگ کمپنیوں، لاجسٹکس، کسٹمز، جہاز رانی، کولڈ اسٹوریج، سی فوڈ ایکسپورٹ اور سیاحت سے وابستہ شعبے بھی لاکھوں افراد کے لیے روزگار فراہم کرتے ہیں۔ بلیو اکانومی کے فروغ سے یہ مواقع کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
بلیو اکانومی کا ایک انتہائی اہم حصّہ ’’سمندری سیّاحت‘‘ ہے، جس پر توجّہ مرکوز کرکے دنیا کے کئی ممالک جیسے مالدیپ، آسٹریلیا، کروشیا وغیرہ نے اپنی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔ پاکستان میں گوادر، اورماڑہ، جیوانی، پسنی، ہنگول اور سندھ کے ساحلی علاقے قدرتی حسن، ساحلی مناظر اور حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ بہتر انفرااسٹرکچر، ماحول دوست منصوبوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے ان علاقوں کو عالمی سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح سمندری معدنیات، آف شور توانائی اور میرین ریسرچ بھی مستقبل کے اہم شعبے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک سمندری وسائل سے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، جب کہ پاکستان ابھی اس میدان میں ابتدائی مراحل میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سطح پر ایک جامع سمندری پالیسی مرتب کی جائے جو اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔
سمندروں کے عالمی دن 2026 کا پیغام بھی یہی ہے کہ انسان اور سمندر کے تعلق کو نئے سرے سے سمجھا جائے۔ سمندر کو صرف وسائل کا خزانہ سمجھنے کے بجائے ایک زندہ ماحولیاتی نظام تصور کیا جائے، جس کی بقا ہماری اپنی بقا سے جڑی ہوئی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ وقت اپنی سمندری صلاحیتوں کو پہچاننے اور انہیں قومی ترقّی کے لیے بروئے کار لانے کا ہے۔ بلیو اکانومی، پائیدار ماہی گیری، ساحلی سیاحت، جدید بندرگاہی نظام اور سمندری ماحول کے تحفظ پر توجہ دے کر پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور خوش حال سمندری مستقبل بھی یقینی بنا سکتا ہے۔
سمندروں کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف ساحلوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ہماری معیشت، خوراک، ماحول، روزگار اور مستقبل سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنے سمندروں کی حفاظت اور دانش مندانہ استعمال کو ترجیح دی، تو یہی نیلا خزانہ کل پاکستان کی ترقی، خوش حالی اور پائیدار معاشی استحکام کا ضامن بن سکتا ہے۔