Gas Leakage Web ad 1

جسٹس آف پیس کا دوبارہ انکوائری اور براہ راست مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

0

جسٹس عبہر گل خان نے خاتون آصفہ بی بی کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

Gas Leakage Web ad 2

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اینٹی کرپشن سے متعلق کیسز میں سیشن عدالتوں کو براہِ راست مقدمات درج کرنے کا حکم دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

پاکستانی معیشت میں بہتری کے باوجود خطرات بدستور موجود ہیں: ایشیائی ترقیاتی بینک

عدالت نے طلاق کے جعلی دستاویزات بنانے کے الزام میں اینٹی کرپشن کو براہِ راست مقدمہ درج کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

فیصلے میں بتایا گیا کہ درخواست گزار کے سابق شوہر نے طلاق کے جعلی سرٹیفکیٹ بنانے کے الزام میں یونین کونسل کے اہلکاروں اور درخواست گزار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے اینٹی کرپشن کو درخواست دی تھی، تاہم اینٹی کرپشن نے اس درخواست پر مقدمہ درج نہیں کیا۔ اس کے بعد سابق شوہر نے مقدمہ درج کرانے کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کیا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو انکوائری کر کے کارروائی کی ہدایت کی تھی، تاہم ڈی جی اینٹی کرپشن کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنے پر دوبارہ جسٹس آف پیس سے رجوع کیا گیا۔ عدالت کے حکم پر محکمہ اینٹی کرپشن نے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ مقدمہ درج نہیں بنتا۔

اس کے باوجود جسٹس آف پیس نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو دوبارہ انکوائری کر کے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا، جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک بار فیصلے پر عمل درآمد کے بعد دوبارہ انکوائری ری اوپن کرنے کا اختیار موجود نہیں۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ جسٹس آف پیس کا دوبارہ انکوائری ری اوپن کرنے اور مقدمہ درج کرنے کا حکم غیر قانونی ہے۔

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ رولز کے مطابق دوبارہ انکوائری کی ہدایت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے قانونی دائرہ اختیار میں مداخلت کے مترادف ہے۔ جسٹس آف پیس کی ہدایت پر اگر ایک بار انکوائری مکمل ہو جائے تو اسے دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں ہوتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سیشن عدالت صرف اینٹی کرپشن حکام کو انکوائری شروع کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے، براہِ راست مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز کے تحت جہاں الزامات ثابت نہ ہوں وہاں تفتیش کو متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے ختم کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر تفتیشی افسر نے غفلت یا جان بوجھ کر کوتاہی کی ہو تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم ایڈیشنل سیشن جج کو سرکاری ملازمین کے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں براہِ راست ہدایات دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ اختیار صرف پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے پاس مخصوص قوانین کے تحت ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.