وفاقی حکومت نے پاکستان عرب ریفائنری کمپنی (پارکو) کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکی ازسرِ نو تشکیل کرتے ہوئے وفاقی وزیر سمیت بیشتر موجودہ ڈائریکٹرز کو مزید تین سال کیلیے برقراررکھاہے،صرف ایک رکن کو تبدیل کیاگیا۔
پارکو کے 10 رکنی بورڈ میں پاکستان کو 6 جبکہ عرب امارات کو، جوکمپنی میں 40 فیصد حصص کامالک ہے، 4 ڈائریکٹرز نامزدکرنے کا اختیارحاصل ہے۔وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق گریڈ 22 کی افسراور پاکستان کسٹمزسروس سے تعلق رکھنے والی رَباب سکندرسلطان کو بورڈمیں شامل کیا گیا، ان کے شوہرچیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجہ بھی ماضی میں بورڈکاحصہ رہ چکے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احدخان چیمہ کو بھی تین سال کیلیے دوبارہ بورڈکارکن مقررکیاگیا،بورڈکاآئندہ اجلاس 2 جولائی کوویاناآسٹریا میں ہوگا۔
بورڈ نامزدگی کمیٹی نے سیکریٹری ریونیوراشد لنگڑیال کانام ان کے سرکاری عہدے کی بنیاد پر تجویزکیا تھا، تاہم وزیراعظم آفس نے انہیں ذاتی حیثیت میں بورڈکا رکن مقرر کیا ہے۔وزارتِ خزانہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پارکوکوشدید مالی دباؤکاسامنا رہا،عالمی منڈی میں ریفائننگ مارجن میں کمی،درآمدی خام تیل پر انحصار، زرِ مبادلہ کے اتار چڑھاؤ، زیادہ مالیاتی اخراجات اورکم پیداواری استعداد نے کمپنی کی منافع بخش کارکردگی کومتاثرکیا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں پارکوکی فروخت 1۔14 کھرب روپے سے کم ہوکر 965 ارب روپے رہ گئی،جو تقریباً 15فیصدکمی ہے، جبکہ بعد از ٹیکس خالص منافع 55۔1 ارب روپے سے گھٹ کر 22۔2 ارب روپے رہ گیا،یعنی منافع میں تقریباً 60 فیصدکمی ریکارڈکی گئی۔
رپورٹ میں مزیدکہاگیاکہ کم مقامی طلب، خاص طور پر ڈیزل اور فرنس آئل کی فروخت میں کمی،بڑھتی ہوئی مالیاتی لاگت نے کمپنی کی مالی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کیے، تاہم مشترکہ منصوبوں سے حاصل ہونیوالے منافع نے کسی حد تک مالی استحکام برقراررکھنے میں مدددی۔
پارکو پاکستان کی توانائی سپلائی چین میں اہم اور مربوط آئل ریفائننگ کمپنی ہے، جس میں پاکستان کے 60 فیصداور ابوظبی پیٹرولیم انویسٹمنٹ کمپنی کے 40 فیصدحصص ہیں، اگرچہ حکومت نے قانونی طور پر پارکوکوسرکاری ادارہ قرار نہیں دیا، تاہم وزارتِ خزانہ اس کی کارکردگی کی نگرانی کرتی ہے۔
نئے بورڈمیں سیکریٹری پیٹرولیم حامد یعقوب شیخ چیئرمین جبکہ سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال بطور ایکس آفیشیو ڈائریکٹر شامل ہیں۔