اسلام آباد کے گھریلو سروے سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی حفاظت ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، کیونکہ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل ابھی تک پارلیمان سے منظور نہیں ہو سکا۔ اس وجہ سے حکومت نے ڈیٹا کی سیکیورٹی نادرا کے حوالے کر دی ہے۔
پارلیمان میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد ہاؤس ہولڈ سروے ایپلی کیشن میں کثیر سطح کا دفاعی ماڈل اپنایا گیا ہے اور مخصوص مقصد کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ممکن نہیں۔ دستاویز کے مطابق پاکستان میں ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق کوئی علیحدہ قانون موجود نہیں ہے، تاہم تمام ڈیٹا نادرا آرڈیننس 2000 کے تحت قانونی طور پر محفوظ ہے اور نادرا نیشنل سرٹ کے جاری کردہ قومی سائبر سیکیورٹی معیارات کی پابندی کرتا ہے۔
نادرا نے پاکستان سیکیورٹی اسٹینڈرڈز فریم ورک نافذ کیا ہے اور تمام ڈیٹا کی سیکیورٹی، رازداری اور خفیہ پن کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد ہاؤس ہولڈ سروے ایپلی کیشن میں کثیر سطح کا دفاعی ماڈل استعمال کیا گیا ہے، اور چوبیس گھنٹے سیکیورٹی آپریشنز سینٹر کی نگرانی بھی فراہم کی جاتی ہے۔
دستاویز کے مطابق، نادرا آرڈیننس میں ڈیٹا لیک، غیر مجاز رسائی، افشا یا چوری کی صورت میں چودہ سال تک قید کی سزا ہے، اور شہریوں کے ڈیٹا سے چھیڑ چھاڑ کو ریاست کے خلاف سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔