مشرق وسطیٰ میں بحران کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی سے کمزور طبقے کو تحفظ دینے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مختلف تجاویز پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے سے قبل مزید مشاورت کریں گے۔
خیبرپختونخوا: مالی سال کے پہلے6 ماہ میں قرضے809 ارب سے تجاوز کرگئے
وزیر خزانہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ وفاقی حکومت اس وقت تک تقریباً 130 ارب روپے خرچ کر چکی ہے اور مزید 25 سے 30 ارب روپے کی مالی گنجائش موجود ہے۔ اس دوران وفاقی حکومت نے بائیک چلانے والوں کو سبسڈی کے معاملے کا اختیار صوبوں پر چھوڑ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل اور رکشہ چلانے والوں کو دو سے تین لیٹر تک مفت پیٹرول فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ متبادل طور پر اس کے مساوی رقم کی سبسڈی منتقل کرنے کا بھی امکان ہے۔
فی الحال وفاقی حکومت نے بائیک چلانے والوں کے لیے سبسڈی کا معاملہ صوبوں کے اختیار میں چھوڑ دیا ہے، لیکن ڈیزل استعمال کرنے والی ٹرانسپورٹ بسوں اور مال بردار ٹرک مالکان کے لیے سبسڈی پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ چھوٹے کسانوں کے لیے فی ایکڑ 1500 روپے تک سبسڈی دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے، اور یہ سبسڈی صرف پانچ ایکڑ زمین رکھنے والے کسانوں کو دینے کی بات زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان سبسڈی کے طریقہ کار پر مزید مشاورت جاری رہے گی، جبکہ صوبہ سندھ اور پنجاب کمزور طبقے کو براہ راست سبسڈی فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سبسڈی کی فراہمی کے لیے قومی لائحہ عمل اور تفصیلی طریقہ کار طے کرنے پر بھی مزید مشاورت کی جائے گی۔