نیتن یاہو کا حماس کیساتھ جنگ بندی پر مذاکرات کیلیے وفد قطر بھیجنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے ممکنہ مذاکرات کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کا اعلان نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ حماس کی جانب سے جنگ بندی کی نئی تجویز میں کی گئی ترامیم اسرائیل کے لیے قابلِ قبول نہیں، لیکن پھر بھی اسرائیل سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔
اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ اتوار کے روز ایک وفد دوحہ روانہ ہوگا، جہاں وہ قطری حکام اور بین الاقوامی ثالثوں سے ملاقات کرے گا تاکہ فریقین کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے اور کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو۔
امریکی دباؤ اور اندرونی احتجاجات کا اثر
ذرائع کے مطابق نیتن یاہو ان دنوں امریکہ کے دورے پر بھی روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات بھی اسی تناظر میں کی جا رہی ہے تاکہ امریکہ کی حمایت سے جنگ بندی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اسرائیل میں نیتن یاہو پر نہ صرف عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ ملک کے اندر بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ حماس کے قبضے میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلِ خانہ گزشتہ 650 دنوں سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں، اور حکومت سے ان افراد کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، دائیں بازو کے سخت گیر حکومتی اتحادی کسی بھی قسم کی جنگ بندی کے مخالف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ غزہ میں جاری کارروائی مکمل کامیابی تک جاری رہے اور نیتن یاہو سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ جنگ کے مکمل خاتمے کی جانب نہ جائیں۔
نیتن یاہو کی پالیسی میں نرمی؟
باخبر ذرائع اور اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس اس جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ نیتن یاہو کی جانب سے پہلی بار لچکدار رویہ اپنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم پر امریکہ اور یورپی اتحادیوں کا شدید دباؤ ہے کہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے امکانات کو سنجیدگی سے پرکھا جائے۔
کچھ رپورٹس کے مطابق یہ سفارتی پیش رفت اس امر کی غماز ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان پسِ پردہ رابطے دوبارہ متحرک ہو چکے ہیں اور قطر اس عمل میں ایک بار پھر کلیدی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔
نتیجہ: سفارتی کوششوں کا نیا موڑ؟
اس تازہ پیش رفت کو غزہ جنگ کے حل کی جانب ایک ممکنہ موڑ سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ معاہدے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، مگر قطر میں ہونے والے مذاکرات اگلے چند دنوں میں اہم سیاسی اور انسانی فیصلوں کی بنیاد بن سکتے ہیں۔