کیا مچھر آپ کو زیادہ کاٹتے ہیں؟ تو اس کی وجوہات سائنسدانوں کی زبانی جانیں
موسم گرما کی شام اکثر لوگ باہر گھومنے کے بعد گھر واپس آتے ہیں تو جسم کے کھلے حصوں پر مچھر کے کاٹنے کے نشان نظر آتے ہیں، جبکہ ساتھ موجود دیگر افراد اس سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ تجربہ عام ہے اور سائنس کے مطابق یہ محض اتفاق یا بدقسمتی نہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مچھر اپنے شکار کا انتخاب ایک پیچیدہ نظام کے تحت کرتے ہیں، جس میں بو، جسمانی کیمسٹری اور بینائی شامل ہوتی ہے۔
قطر کے راس لفان ایل این جی کمپلیکس میں دھماکا، پاکستانی شہریوں سمیت 13 افراد جاں بحق
جرنل نیچر میں شائع ایک حالیہ تحقیق کے مطابق مچھر سب سے پہلے انسانوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ذریعے شناخت کرتے ہیں، جو ہم ہر سانس کے ساتھ خارج کرتے ہیں۔ جب مچھر قریب آ جاتے ہیں تو انسانی جسم کی منفرد بو ان کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے کہ وہ کس شخص کو کاٹیں گے۔
تحقیق میں متعدد جلدی کیمیکلز کی نشاندہی کی گئی ہے جو مچھروں کے رویے پر اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں 1-octen-3-ol ایک اہم مرکب ہے، جو جلد کی چکنائی سے بنتا ہے اور مچھروں کو خاص طور پر متوجہ کرتا ہے۔
پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ خون کا گروپ، خاص طور پر O گروپ، مچھر کشش میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن نئی تحقیقات میں اس خیال کو کمزور قرار دیا گیا ہے۔ اب زیادہ اہم عنصر جسم کی بو کو سمجھا جاتا ہے، جو جلد پر موجود بیکٹیریا اور ان کے بنائے گئے کیمیائی مادوں سے بنتی ہے۔
کچھ افراد کی جلد سے خارج ہونے والے کاربوکسیلک ایسڈز کی زیادہ مقدار انہیں مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ جینیاتی عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق حاملہ خواتین، زیادہ جسمانی سرگرمی کرنے والے افراد اور موٹاپے کے شکار افراد زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، جس سے مچھر انہیں آسانی سے تلاش کر لیتے ہیں۔ جسمانی حرارت بھی اس عمل میں مدد دیتی ہے۔
لباس کا رنگ بھی اہم ہے۔ مچھر گہرے رنگ جیسے سیاہ، نیوی بلیو اور سرخ کو زیادہ آسانی سے دیکھ لیتے ہیں، جبکہ سفید اور سبز جیسے ہلکے رنگ نسبتاً کم پرکشش ہوتے ہیں۔