قطر کے راس لفان ایل این جی کمپلیکس میں دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق جبکہ 66 زخمی ہو گئے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ، انسانی سمگلنگ کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد
قطر کی وزارتِ توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ دھماکے کے باوجود پلانٹ کی برآمدی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی اور نہ ہی ماحولیات کو کوئی خطرہ لاحق ہوا ہے۔
قطر کے وزیرِ توانائی سعد شریدہ الکعبی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک افسوسناک اعلان کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق دھماکے میں 13 افراد جان کی بازی ہار گئے جن کا تعلق پاکستان اور بھارت سے تھا، جبکہ 66 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔
قطر انرجی کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دھماکا پلانٹ کے کس حصے میں ہوا یا نقصان کی نوعیت کیا تھی، تاہم سعد الکعبی نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کے اثرات مرکزی دوحہ تک محسوس کیے گئے، جبکہ راس لفان سے تقریباً 70 کلومیٹر دور رہائشی علاقوں میں بھی کھڑکیاں لرز اٹھیں۔