اسلام آباد: وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پنکی کراچی کی ہو یا لاہور کی، جو بھی قانون شکنی کرے گا اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد منشیات سے متعلق معاملات بڑی حد تک صوبائی دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں، اس لیے صوبوں کو اپنی انسدادِ منشیات فورسز کے قیام کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔
امریکا نے سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے نتیجے میں ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی عارضی طور پر اٹھا لی
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ بعض ارکان نے کراچی میں منشیات کے مسئلے کی نشاندہی کی ہے، تاہم حکومت کسی بھی شہر میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی منظوری سے انسدادِ منشیات فورس میں مزید 500 اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صوبوں کے تعاون کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔
طلال چوہدری کے مطابق دہشت گردی کے 95 فیصد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے، جن میں 783 شہری شہید اور 1767 زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 1890 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی تھی۔
وزیر مملکت داخلہ نے مزید کہا کہ اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا اسمارٹ سٹی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کی ایک جدید جیل بھی تعمیر کی جا رہی ہے، جہاں خواتین قیدیوں اور ان کے بچوں کے لیے بھی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔