درمیانی عمر میں جسمانی فٹنس برقرار رکھنے کا آسان راز جان لیں
درمیانی عمر میں جسمانی طور پر فٹ رہنے کے لیے صحت بخش غذا کی عادت اپنانا انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
ایک طبی تحقیق کے مطابق جو جرنل یورپین جرنل آف پریوینٹو کارڈیالوجی میں شائع ہوئی، صحت مند غذا اور جسمانی فٹنس کے درمیان واضح تعلق پایا گیا ہے۔
امریکی فوج نے نائیجیریا میں داعش کے اعلیٰ رہنما کو ختم کر دیا، صدر ٹرمپ
تحقیق میں بتایا گیا کہ ورزش کے دوران جسم کی آکسیجن کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت کو جسمانی فٹنس کا اہم معیار سمجھا جاتا ہے، جو دل، پھیپھڑوں، خون کی شریانوں اور پٹھوں کے نظام کے لیے بہت اہم ہے۔
محققین نے کہا کہ صحت مند غذا دل اور نظام تنفس کی کارکردگی پر ایسے مثبت اثرات ڈالتی ہے جو روزانہ تقریباً چار ہزار اضافی قدم چلنے کے برابر ہوتے ہیں۔
اس تحقیق میں دو ہزار تین سو اسی افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر چون پچاس سال تھی۔ ان افراد کی جسمانی فٹنس اور غذائی عادات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
محققین نے سوالنامے کے ذریعے معلوم کیا کہ گزشتہ ایک سال میں ان افراد کی خوراک میں کیا شامل رہا۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ بہتر غذائی معیار اور بہتر جسمانی فٹنس کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے، جو عمر، جنس، جسمانی وزن، تمباکو نوشی، بلڈ پریشر، ذیابیطس اور روزمرہ سرگرمیوں کو مدنظر رکھنے کے باوجود برقرار رہا۔
تحقیق کے مطابق پھل، سبزیاں، سالم اناج، خشک میوہ جات، دالیں، مچھلی اور صحت مند چکنائی کا زیادہ استعمال جبکہ سرخ گوشت کا کم استعمال جسمانی فٹنس کو بہتر بنا سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ صحت مند غذا میٹابولک نظام کو بہتر کرتی ہے، جس سے جسمانی توانائی اور ورزش کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نتائج کی مکمل تصدیق کی جا سکے۔