کرائے کیلئے استعمال شدہ سکّہ دو ہزار برس پُرانا نکلا
کرائے کیلئے استعمال شدہ سکّہ دو ہزار برس پُرانا نکلا
1950 کی دہائی میں لیڈز میں بس کا کرایہ ادا کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا ایک عجیب سکّہ بعد میں تحقیق کے بعد دو ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والا نکلا۔ یہ سکّہ کئی دہائیاں پہلے ایک مقامی بس ڈرائیور کو کرائے کے طور پر دیا گیا تھا اور بعد میں جیمز ایڈورڈز کے پاس پہنچ گیا، جو لیڈز سٹی ٹرانسپورٹ میں چیف کیشیئر تھے۔ ان کا کام دن بھر جمع ہونے والے کرایوں کو اکٹھا کرنا اور دن کے اختتام پر ان کی گنتی کرنا تھا۔

چونکہ یہ سکّہ رائج نہیں تھا اور اسے خرچ نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لیے مسٹر ایڈورڈز اسے گھر لے گئے اور اپنے کم عمر پوتے پیٹر کو بطور تحفہ دے دیا۔ پیٹر نے اس سکے کو ایک چھوٹے لکڑی کے صندوق میں سنبھال کر رکھ دیا جہاں یہ ستر برس سے زیادہ عرصے تک محفوظ رہا۔ بعد میں لیڈز یونیورسٹی کے ماہرین آثارِ قدیمہ نے تحقیق کے بعد بتایا کہ یہ سکّہ دراصل فونیقی تہذیب سے تعلق رکھنے والے کارتھی جینینز کا ہے اور پہلی صدی قبل مسیح میں ہسپانوی شہر قادِز میں ڈھالا گیا تھا۔
77 سالہ پیٹر کے مطابق ان کے دادا کو اکثر ایسے سکّے مل جاتے تھے جو برطانوی نہیں ہوتے تھے، وہ انہیں الگ رکھ لیتے تھے اور جب بھی پیٹر ان کے گھر جاتے تو وہ ان میں سے چند سکّے انہیں دے دیا کرتے تھے۔



