سول سرونٹس کو دہری شہریت سے متعلق نئے قواعد کے تحت ڈیکلریشن جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی ہے، جبکہ افسران کو دہری شہریت سے متعلق ڈیکلریشن ایک ہفتے میں جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے۔ مقررہ مدت میں ڈیکلریشن جمع نہ کرانے پر کارروائی کی وارننگ بھی جاری کردی گئی ہے۔

ڈیکلریشن جمع نہ کرانے یا غلط معلومات فراہم کرنے کو مس کنڈکٹ تصور کیا جائے گا۔ ڈیکلریشن میں افسران اور ان کے زیر کفالت افراد کی دہری شہریت کی حیثیت ظاہر کرنا ہوگی، جبکہ افسران کو کسی بھی غیر ملکی سفری دستاویزات رکھنے سے متعلق بھی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔
آئندہ ہفتے مکہ معاہدے کے تحت ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کی صورتحال زیر غور آئے گی: اسحاق ڈار
غیر ملکی شہری سے شادی کی صورت میں بھی متعلقہ معلومات ڈیکلریشن میں ظاہر کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ سول سرونٹس کو دہری شہریت سے متعلق ڈیکلریشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں جمع کرانا ہوگا۔ ڈیکلریشن جمع نہ کرانے والے افسران کے خلاف سول سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
متعدد اعلیٰ افسران کی جانب سے تاحال ڈیکلریشن جمع نہ کرانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد چیف سیکرٹریز اور صوبائی پولیس افسران کو بھی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
وزارتوں اور ڈویژنز کے ساتھ چیف سیکرٹریز اور صوبائی پولیس افسران کو بھی مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے، جس میں سول سرونٹس ڈسکلوزر اینڈ پروہیبیشن آف فارن اینڈ ڈوئل نیشنلٹی رولز 2026 پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈیکلریشن جمع کرانے کی اصل مدت سرکاری گزٹ میں قواعد کے نفاذ کے بعد 90 دن مقرر کی گئی تھی، جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 2 اکتوبر 2026 کے مراسلے میں زیر التوا ڈیکلریشنز فوری جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیکلریشن میں غلط معلومات فراہم کرنا بھی محکمانہ کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔



