Gas Leakage Web ad 1

ہسٹری کا خطرناک ترین ایل نینو ؛ 2027 تاریخ کا گرم ترین سال ہو گا

0

اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ’سپر ایل نینو‘ انسانی تاریخ میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے شدید ایل نینو بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کی شدت جتنی زیادہ ہوگی، دنیا بھر میں شدید موسمی حالات کے خطرات بھی اتنے ہی بڑھ جائیں گے۔

Gas Leakage Web ad 2

WMO کی پیش گوئی کے مطابق ایل نینو کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی ایل نینو کے اتنے طویل عرصے تک برقرار رہنے کے حوالے سے اتنے زیادہ یقین کا اظہار کیا گیا ہے۔

WMO کے مطابق موجودہ ایل نینو کے اثرات پہلے ہی مختلف خطوں میں نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ وسطی امریکا میں بڑے پیمانے پر فصلوں کی ناکامی اور غذائی بحران کا سامنا ہے، جبکہ سری لنکا شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہے۔ پاکستان میں بھی رواں برس مون سون کی بارشیں معمول سے کم رہی ہیں۔

WMO کا کہنا ہے کہ موجودہ ایل نینو کے اثرات 2027 تک جاری رہ سکتے ہیں اور عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق 2027 ریکارڈ پر دنیا کا گرم ترین سال بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

WMO کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 1950 کے بعد اب تک صرف تین انتہائی شدید ایل نینو ریکارڈ کیے گئے ہیں، تاہم موجودہ رجحان کی شدت ان تمام سابقہ واقعات سے زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

WMO کے سیکریٹری جنرل سیلسٹی ساؤلو کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ نگرانی شروع ہونے کے بعد ریکارڈ کیا جانے والا سب سے مضبوط ایل نینو بن سکتا ہے۔

ایل نینو بنیادی طور پر مشرقی بحرالکاہل کے سمندری سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا موسمی رجحان ہے، جو تجارتی ہواؤں کے کمزور ہونے کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ یہ عموماً ہر دو سے سات سال کے دوران ظاہر ہوتا ہے اور ایک مرتبہ شروع ہونے کے بعد تقریباً 12 ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔

اس موسمی رجحان کے باعث جنوبی ایشیا میں مون سون کی بارشوں میں کمی، بعض علاقوں میں خشک سالی، جبکہ لاطینی امریکا سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور دیگر غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ انتہائی شدید ایل نینو عالمی سطح پر بارش اور درجہ حرارت کے معمول کے نمونوں کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے جو انسانی سرگرمیوں اور فوسل فیول کے استعمال سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے بہت پہلے سے موجود ہے۔ تاہم عالمی درجہ حرارت میں مجموعی اضافے کے باعث سمندری پانی کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے، جس سے مستقبل میں ایل نینو کی شدت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحقیق جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے موسمیاتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل نینو کے اثرات زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں اور دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔

WMO کے مطابق رواں ایل نینو کے دوران بحرالکاہل کی بالائی سطح کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے تقریباً 2 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 1950 کے بعد ریکارڈ کیے گئے انتہائی شدید ایل نینو واقعات میں نمایاں سطح ہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ ایل نینو رواں سال کے اختتام تک اپنی بلند ترین شدت پر پہنچ سکتا ہے، تاہم اس کے اثرات 2027 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں عارضی اضافے کے باعث آئندہ سال نئے درجہ حرارت کے ریکارڈ قائم ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

WMO نے کہا ہے کہ وہ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ابتدائی انتباہ اور تیاری کے نظام کو مزید مؤثر بنا رہا ہے تاکہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں، جن میں خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں کا استعمال بھی شامل ہے۔

تنظیم کے مطابق زراعت، صحت، توانائی، آبی وسائل اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سمیت موسمیاتی حساس شعبوں کو بروقت موسمیاتی معلومات اور پیش گوئی فراہم کرنا آئندہ برسوں میں اہم ہوگا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.