لندن: پاکستان کرکٹ ٹیم کی دورہ انگلینڈ میں ناقص کارکردگی اور مایوس کن بیٹنگ کے بعد ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے کہا ہے کہ مشکل وقت میں کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بناؤں گا، سیریز ختم ہونے کے بعد بیٹھ کر فیصلہ کریں گے کہ کس کو ٹیم میں رکھنا ہے اور کس کو باہر کرنا ہے۔
ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے لارڈز ٹیسٹ کے دوسرے روز کھیل کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی کارکردگی خراب رہی ہے، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سارا ملبہ کھلاڑیوں پر ڈال دیا جائے۔
کراچی: ناظم آباد میں زچگی کا معاملہ متنازع ہوگیا، شہری کا نجی اسپتال پر نومولود غائب کرنے کا الزام
سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ٹیم ہے اور پاکستان کے بہترین کھلاڑی اس کا حصہ ہیں، محمد رضوان، سعود شکیل اور سلمان علی آغا نے ماضی میں پرفارم بھی کیا ہے، تاہم اس وقت وہ رنز نہیں بنا پا رہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور ہیڈ کوچ میں ان کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑا ہوں، سیریز کے بعد بیٹھ کر بات کریں گے اور پھر فیصلہ ہوگا کہ کس کو ٹیم میں رکھنا ہے اور کس کو نکالنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب بیٹنگ میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تو بولنگ خراب ہوجاتی ہے، تاہم ابھی یہ تسلیم کرتا ہوں کہ بیٹنگ کے شعبے میں مسائل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب اچھے لڑکے ہیں اور بہت محنت کر رہے ہیں، افسوس ہے کہ نتائج ہمارے حق میں نہیں آرہے، لیکن ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ایک پیشہ ورانہ ٹیم ہے۔
ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے کہا کہ اگر پاکستان کرکٹ ٹیم کو بین الاقوامی سطح پر اپنا تشخص عالمی معیار کے مطابق برقرار رکھنا ہے تو کھلاڑیوں کو کارکردگی دکھانا ہوگی، فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپس جانا ہوگا اور اپنی خامیوں پر کام کرنا ہوگا، یہ بہت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا تعلق ہے، بطور ہیڈ کوچ وہ اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور کسی ایک کو موردِ الزام نہیں ٹھہرائیں گے۔