جائیداد ملکیت اور وراثت کے معاملات سول عدالتوں میں مناسب مدت میں طے کیے جائیں: سپریم کورٹ
*سپریم کورٹ نے خواتین کے جائیداد حقوق کیس میں وفاقی محتسب اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا*

جسٹس عائشہ ملک نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی محتسب کے اختیارات واضح ملکیتی حقوق اور قبضے کی بحالی تک محدود ہیں، پیچیدہ قانونی تنازعات کا فیصلہ شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔
متنازعہ جائیداد کا معاملہ مجاز سول عدالت کو بھجوا دیا گیا۔ سول عدالت کو فریقین کو 15 روز میں نوٹس جاری کرنے اور مقدمہ مناسب مدت میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی۔
متنازعہ ہبہ نامے کی اصلیت، قانونی حیثیت اور وراثتی حقوق کا تعین سول عدالت کرے گی۔



