چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے جعلی چیک کے مقدمے میں نامزد ملزم غلام دستگیر کی ایف آئی آر سے اخراج کی درخواست پر سماعت کی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ پانچ سال قبل درج ہوا، لیکن نہ ملزم گرفتار ہوا اور نہ ہی اس نے تفتیش میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس چھ، چھ سال تک گواہ پیش نہیں کرتی، لیکن اس کے باوجود عدلیہ کو خراب کہا جاتا ہے، حالانکہ عدلیہ خاموش رہنے پر مجبور ہے اور کچھ کہہ بھی نہیں سکتی۔
علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں 30 روزکی توسیع
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ عدالتیں پولیس کو جرمانے کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود معاملات درست نہیں ہوتے۔ پولیس افسران کی تنخواہیں بند کی جاتی ہیں، تاہم تھوڑی سی تنخواہ بند ہونے سے انہیں کیا فرق پڑتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب پولیس عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کرتی تو سینئر افسر کو طلب کرنا پڑتا ہے، لیکن اس کے باوجود عدلیہ کو ہی خراب کہا جاتا ہے۔
جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اب پولیس اہلکار صبح مدعی پر دباؤ ڈال کر اسے عدالت میں لے آئیں گے اور مقدمہ واپس لینے پر آمادہ کرلیں گے۔ مدعی پر دباؤ پولیس ڈالے گی، لیکن بدنام عدلیہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے کمپیوٹر پر ایف آئی آر درج کرنے سے بھی معاملات خراب ہورہے ہیں، کیونکہ کمپیوٹر پر ایف آئی آر درج کرتے وقت پولیس اپنی مرضی کی باتیں شامل کردیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن مقدمات میں مدعی اپنی درخواست واپس لے لیتا ہے، ایسے مقدمات پولیس افسران کو پسند آتے ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت سے باہر نکلنے کے بعد مدعی کو دوبارہ ہراساں کرنا شروع کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غلام دستگیر کے خلاف 20 لاکھ روپے مالیت کے چیک ڈس آنر ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سال 2021ء میں پولیس نے مقدمے کا چالان جمع کروایا، تاہم ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ ملزم نے اپنی ایف آئی آر خارج کروانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔
عدالت نے معاملے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سی پی او ملتان کو کل ذاتی حیثیت میں ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔



