سوات: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری ہے اور اسے ملتوی نہیں کیا جا رہا، جبکہ حکومتی ہٹ دھرمی کے باعث مذاکرات کے حتمی ڈرافٹ پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا حل نہ ہو، ہمارے مطالبات سادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے اور ان کی فیملی سے بھی ملاقات کرائی جائے، عمران خان کی فیملی کو کوٹ لکھپت جیل میں کیوں رکھا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نہ خیبرپختونخوا حکومت چھوڑ رہی ہے اور نہ ہی صوبائی اسمبلی تحلیل کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر آئینی اقدامات پر پی ٹی آئی کے تمام سینیٹرز، ایم این ایز اور ایم پی ایز بائیکاٹ پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو لولی لنگڑی بنایا گیا ہے اور ڈرافٹ کے نکات پر حتمی اتفاق اس لیے نہ ہوسکا کیونکہ حکومت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔
اسلام آباد پولیس کے 27 لا افسران نوکری سے برخاست
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت نے پیغام دیا کہ وہ خوش اسلوبی سے مذاکرات کے لیے گئے، جبکہ وزیر اعظم کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کا مطالبہ بھی رکھا گیا، لیکن حکومت نے کسی ایک بات پر بھی رضامندی ظاہر نہیں کی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر متفقہ لائحہ عمل کا مطالبہ کیا گیا۔ ہم نے خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں دہشتگردی کے خلاف متفقہ بیانیے کی بات کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کسی اور سے احکامات لیں تو صوبے میں امن کیسے آئے گا، جبکہ ہمارے ہی صوبے کے ڈپٹی کمشنر کسی اور کے کہنے پر دفعہ 144 نافذ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مخلصانہ کوششیں کیں لیکن حکومت نہیں مانی۔ وفاقی حکومت ہمارے صوبے میں مداخلت بند کرے، بغیر گورنر راج کے خیبرپختونخوا میں گورنر راج قائم ہے۔ ان کے مطابق 5 نکات پر بات ہوئی لیکن حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، تاہم اب بھی وقت ہے کہ حکومت آگے آئے اور بات کرے۔



