درآمدی ایل این جی کی بندش اور ڈیمز سے پانی کے کم اخراج کے باعث نیشنل گرڈ میں بجلی کی کمی 4 ہزار 500 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی۔

تفصیلات کے مطابق پن بجلی کا حصہ 6 ہزار 200 میگاواٹ سے کم ہو کر پیک آورز میں 5 ہزار میگاواٹ رہ گیا، جبکہ درآمدی آر ایل این جی کی بندش کے باعث 6 ہزار میگاواٹ کے پاور پلانٹس بند پڑے ہیں۔
کے پی میں علیحدہ سکیورٹی پالیسی کی کوئی گنجائش نہیں، وفاق کا پی ٹی آئی کو واضح پیغام
اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں 3 سے 4 گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ ملک میں پیک آورز کے دوران بجلی کی طلب ساڑھے 23 ہزار میگاواٹ سے زائد ہے، جبکہ سسٹم میں بجلی کی دستیابی 19 ہزار میگاواٹ سے بھی کم ہے۔
گرمی اور حبس کے باعث اکتوبر میں بھی بجلی کی طلب میں کمی نہیں آسکی۔



